دو زیر حراست افراد نیلوفر حمدی اور الہہ محمدی کی ایک تصویر ایرانی اخبار شرق نے شائع کی ہے
مہسا امینی کی موت کی کوریج کرنے والی صحافیہ پرمقدمہ قائم
کل سوموار کوایرانی حکام نے صحافیہ الہہ محمدی کے مقدمے کی سماعت شروع کی، جسے ان کے وکیل کے مطابق گذشتہ ستمبر میں مہسا امینی کی موت کی کوریج کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔
36 سالہ الہہ محمدی تہران کی ایک عدالت میں اپنے مقدمے کی سماعت کے پہلے سیشن میں پیش ہوئیں، جو بند دروازوں کے پیچھے منعقد ہوا۔
خاتون صحافی کے وکیل شہاب مرلوجی نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ سیشن "مثبت" تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگلے سیشن کی تاریخ کا اعلان "بعد میں کیا جائے گا"۔
مرلوجی نے مقدمے کے آغاز سے 24 گھنٹے قبل اپنی گرفتاری کے بعد پہلی بار اپنے مؤکل سے ملنے کی اجازت حکام سے حاصل کی۔
روزنامہ "ھم مہین" سے منسلک صحافیہ الہہ محمدی ان دو صحافیوں میں سے ایک ہیں جنھیں "اخلاقی پولیس" نے مذہبی لباس کی خلاف ورزی کی بنیاد پر گرفتار کی گئی مہسا امینی کی موت کی کوریج کرنے پر قید کیا تھا۔
گذشتہ ستمبر میں اسے مغربی ایران کے صوبہ کردستان میں واقع اس کے آبائی شہر ساقیز میں امینی کے جنازے کی کوریج کرنے کے بعد گرفتار کر لیا گیا۔ یاد رہے کہ مہسا امینی کی وفات کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر حکومت مخالف مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔
اسی بارے میں
-
ایران میں توڑ پھوڑ کرنے والوں کی مہسا امینی کی قبر کی بے حرمتی -
ایران میں مہسا امینی کی ہلاکت کے خلاف مظاہروں سے منسلک 3 افراد کو پھانسی دے دی گئی -
ایرانی قیادت کو سزا، امریکہ میں مہسا امینی ایکٹ منظوری کی تیاری -
مہساامینی کی موت کے خلاف احتجاج میں 200 سے زیادہ افرادہلاک ہوچکے: ایران -
مہسا امینی کے والد کا انٹرویو کرنے والی خاتون صحافی گرفتار