ایرانی قیادت کو سزا، امریکہ میں مہسا امینی ایکٹ منظوری کی تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی ایوان نمائندگان میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹس ایران کے سپریم لیڈر اور دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات پر انسانی حقوق کے جرائم کے لیے پابندیاں لگانے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ دونوں جماعتوں کے خارجہ پالیسی کے رہنما ؤں نے علی خامنہ ای اور ابراہیم رئیسی کو سزا دینے کے لیے "مہسا امینی" ایکٹ کے نام سے ایک قانون لانے کی تیاری شروع کردی ہے۔ یاد رہے ایران میں 16 ستمبر کو سکارف نہ پہننے کی وجہ سے گرفتار مہسا امینی نامی خاتون کی پولیس حراست میں موت ہوگئی تھی۔ واشنگٹن فری بیکن سے بات کرنے والے کانگریسی ذرائع کے مطابق یہ مجوزہ مسودہ قانون "ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور ایران کے صدر ابراہیم رئیسی اور ان کے دفاتر پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور دہشت گردی کی حمایت کی بنا پر پابندیاں عائد کرے گا۔

بل کی دو طرفہ حمایت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ دونوں جماعتوں کے رہنما چاہتے ہیں کہ امریکہ ایرانی حکومت کے خلاف سخت رویہ اختیار کرے کیونکہ سخت ایرانی حکومت اپنے خلاف احتجاج کرنے والے مخالفین کو تشدد کا نشانہ بنا رہی اور گرفتار کر رہی ہے۔ بائیڈن انتظامیہ نے ایرانی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں پر متعدد پابندیاں عائد کی ہیں تاہم اس نے سپریم لیڈر علی خامنہ ای، صدر ابراہیم رئیسی اور مظاہرین کے خلاف حکومت کے پرتشدد کریک ڈاؤن کے ذمہ دار دیگر اہم شخصیات کو نشانہ بنانے سے روک دیا ہے۔

مہسا امینی ایکٹ پچھلی کانگریس میں پیش کیا گیا تھا لیکن کسی بھی ڈیموکریٹ کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا۔ اس مرتبہ ایوان نمائندگان پر ریپبلکنز کے کنٹرول کے ساتھ ڈیموکریٹک خارجہ پالیسی کے رہنما اس بل کی حمایت کر رہے ہیں۔ صورت حال پر نظر رکھنے والے کانگریسی ذرائع کے مطابق یہ تبدیلی ایرانی مظاہروں پر امریکی ردعمل سے بڑھتی ہوئی مایوسی کو نمایاں کرتی ہے۔ ایران میں مظاہرے پانچویں مہینے میں داخل ہو چکے ہیں۔ کانگریس کے ذرائع نے بتایا یہ قانون جمعہ کو دوبارہ متعارف کرایا گیا تھا۔

کانگریس رکن جم بینکس کے مطابق مہسا امینی جیسے عام ایرانیوں کو ایرانی حکومت کے ہاتھوں قتل اور ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن بائیڈن انتظامیہ اب بھی سینئر ایرانی حکام سے تعلقات بڑھانے کی کوشش کررہی ہے تاکہ بائیڈن ایران کے ساتھ مزید تباہ کن جوہری معاہدے کی طرف پیش رفت کر سکیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ یورپی رہنماؤں نے بھی ایران کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے جوابدہ ٹھہرانے کے لیے وائٹ ہاؤس سے زیادہ کام کیا ہے۔ جو کچھ ہو رہا ہے وہ گزشتہ اوباما کی سفارت کاری سے بھی بدتر ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ نیا ایوان ایرانی مظاہرین کی حمایت میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔ اس ہفتے کے شروع میں 420 کے مقابلے میں 1 کے ووٹ سے ایوانِ نمائندگان میں قانون سازوں نے ایک قرارداد منظور کی جو ایران میں مظاہرے کرنے والے مردوں اور خواتین کی ہمت، حوصلے اور عزم کو سراہتی ہے۔ اس اقدام میں ایرانی حکومت کے جرائم کے لیے مکمل جوابدہی کا مطالبہ کرنے والی دفعات شامل ہیں اور بائیڈن انتظامیہ سے احتجاج کا جواب دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

جمعرات کو سینیٹ نے ایک وسیع دو طرفہ قرارداد پیش کی تھی جس میں ایرانی مظاہرین کی حمایت کا اظہار کیا گیا۔ سینیٹ کی قرارداد میں بائیڈن انتظامیہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مظاہروں کو پرتشدد طریقے سے دبانے کے ذمہ دار ایرانی عہدیداروں اور اداروں پر اضافی پابندیاں عائد کرنے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو مضبوط کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں