اسرائیل میں مظاہرے جاری، عدالتی ترامیم کے منصوبے میں ایک بڑا اقدام
اسرائیلی کنیسٹ کی ایک کمیٹی نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ اس نے اس متنازع منصوبے کے خلاف مظاہروں میں اضافے کے باوجود انتہائی دائیں بازو کی حکومت کے پیش کردہ عدالتی اصلاحات کے منصوبے میں ایک اہم اقدام کی منظوری دے دی ہے۔
"معقول شق"
پارلیمانی جسٹس کمیٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے "سات کے مقابلے میں نو اراکین کی اکثریت سے" "معقولیت کی شق" کی منسوخی کی منظوری دی۔
"معقولیت کی شق" اسرائیل میں عدالتی نظام اور خاص طور پر سپریم کورٹ کے ججوں کے لیے دستیاب طریقہ کار میں سے ایک ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
عدالتی نگرانی
اس شق کے ذریعے سپریم کورٹ حکومت اور اس کی وزارتوں اور اس سے منسلک سرکاری اداروں کی نمائندگی کرنے والے ایگزیکٹو اتھارٹی کی مختلف شاخوں پر عدالتی کنٹرول کا استعمال کرتی ہے۔
حکومت کے اصلاحاتی منصوبے کے خلاف جنوری میں شروع ہونے والے مظاہرے، شدت اختیار کر گئے ہیں۔
اگر اگلے ہفتے کنیسٹ سے منظور ہو گیا تو یہ بل قانون بن جائے گا.
سرکاری دفاتر کے باہر احتجاج
مظاہروں کے منتظمین نے تصدیق کی کہ مظاہرین جمعرات کی صبح ساحلی شہر حیفا (شمال) میں سرکاری دفاتر کے باہر جمع ہوئے جبکہ تل ابیب میں ہونے والےایک مظاہرے میں سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔
اصلاحاتی منصوبے کی وجہ سے تقسیم کی کیفیت پیدا ہوئی ہےاور اسرائیل میں بڑے بڑےمظاہرے ہوئے ہیں۔
عدالتی اصلاحات کے منصوبے کو اسرائیل کے سب سے اہم اتحادی واشنگٹن کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔