اسرائیلی وزیر ثقافت غزہ کو نیا ہیروشیما دیکھنا چاہتے ہیں:فلسطینی وزیراعظم

غزہ میں بچوں کے قتل عام کے بعد عالمی یوم اطفال منانے کی کوئی ضرورت نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی وزیر اعظم محمد اشتیہ نے اسرائیلی وزیر ثقافت کے ان بیانات کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے جن میں انہوں نے غزہ پر ایٹمی بم گرانے کی بات کی تھی۔

اشتیہ نے آج سوموار کو ایک تقریر میں کہا کہ اسرائیلی وزیر غزہ میں "ہیروشیما" دیکھنا چاہتے ہیں۔

فلسطینی وزیر اعظم نے مزید کہا کہ غزہ میں ایمبولینسز کو دنیا کی نظروں کے سامنے بمباری کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے غزہ کی پٹی میں لگنے والی جنگ کو روکنے کے لیے فوری اقدام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بچوں کا عالمی دن منانا چھوڑ دیں

انہوں نے بین الاقوامی فوجداری عدالت سے اسرائیلی حکومت کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے غزہ میں ہزاروں بچوں کی ہلاکت کے بعد یوم اطفال کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔

اشتیہ نے زور دے کر کہا کہ غزہ فلسطین کا اٹوٹ انگ ہے۔

وزیر کا بیان

غزہ پر جوہری ہتھیاروں سے حملہ کرنے کے بارے میں اسرائیلی ثقافتی ورثہ کے وزیر امیچائی الیاہو کے کل کے بیانات نے اسرائیل کے اندر اور باہر بڑے پیمانے پر تنقید کو جنم دیا ہے۔ ساتھ ہی سوشل میڈیا پر ان پرتند وتیز تنقید کی جا رہی ہے۔

تاہم اسرائیلی وزیر نے تنقید کے بعد بات گول مول کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ ان کے الفاظ محض علامتی اظہار یا "استعارہ" تھے۔ ان کا مقصد غزہ کی پٹی پر بم گرانے کا مطالبہ کرنا نہیں تھا۔

قابل ذکر ہے کہ غزہ میں حماس کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی پر رات کے وقت اسرائیلی فورسز کی جانب سے کی گئی شدید اسرائیلی بمباری میں کم از کم 200 افراد مارے گئے۔

غزہ پرمسلط کی گئی اسرائیلی جارحیت کا ایک ماہ مکمل ہونے کے بعد آج دوسرامہینہ شروع ہوگیا ہے۔ اس بمباری میں اب تک دس ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید اور بتیس ہزار سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں۔ شہداء اور زخمیوں میں بڑی تعداد میں بچے، خواتین اور معصوم شہری شامل ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں