اسرائیلی فوج کا خان یونس ہسپتال پرخوفناک حملہ،دسیوں افراد شہید اور زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ کی پٹی کے وسط میں پرتشدد جھڑپیں شروع ہونے کے بعد آج بدھ کو غاصب اسرائیلی افواج نے جنوبی غزہ کی طرف پیش قدمی کی کوشش کی۔ اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ کے خان یونس ہسپتال پر وحشیانہ بمباری کی جس کے نتیجے میں دسیوں فلسطینی شہید اور زخمی ہوگئے ہیں۔

دسیوں افراد شہید اور زخمی

فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی نے آج بدھ کو اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی کے جنوب میں خان یونس میں ایک رہائشی عمارت پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں درجنوں افراد شہید اور زخمی ہوئے۔

اس نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ جس رہائشی عمارت پر بمباری کی گئی وہ انجمن کے الامل ہسپتال کے سامنے واقع ہے۔

غزہ میں وزارت صحت نے تصدیق کی کہ اسرائیلی بمباری میں 18 افراد جاں بحق ہوئے جس میں خان یونس میں ہسپتال کے آس پاس کو نشانہ بنایا گیا۔

فلسطین ٹی وی کے مطابق گذشتہ گھنٹوں کے دوران جنوبی غزہ کی پٹی کے شہر خان یونس میں شدید جھڑپیں دیکھنے میں آئیں، جن میں خان یونس میں 26 فلسطینی مارے گئے۔

فلسطینی ہلال احمر نے بتایا کہ اسرائیلی توپ خانے کی گولہ باری نے ایسوسی ایشن کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا، جس میں خان یونس میں ہزاروں بے گھر افراد شامل ہیں۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

دریں اثنا اسلامی جہاد کے عسکری ونگ القدس بریگیڈ نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ اس کے جنگجو منگل کی صبح سے خان یونس میں "سخت جھڑپوں" میں مصروف ہیں۔

زمینی دراندازی

دو ہفتے قبل اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے جنوب میں زمینی دراندازی کا آغاز کیا، جہاں بے گھر فلسطینیوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ اسرائیلی فورسز کے شمالی اور وسطی غزہ پر وحشیانہ بمباری کے بعد لاکھوں لوگ جنوبی غزہ منتقل ہوگئے تھے۔

دریں اثنا، خوراک، طبی امداد کی کمی اور بعض بیماریوں کے پھیلاؤ کے خطرات کے جلو میں خان یونس اور مصر سے ملحقہ شہر رفح میں لاکھوں افراد خیموں اور پناہ گاہوں میں جمع ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں