فلسطینی صدر: فوجی حل ناکام رہے ہیں اور ان سے امن نہیں آئے گا
فلسطینی صدرمحمود عباس نے اتوار کے روز اسرائیلی جنگ کو فوری طور پر روکنے اور غزہ میں امداد کی اجازت دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فوجی حل خطے کو "تباہی کے دہانے" پر دھکیل دے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی عوام آج غزہ کی پٹی، مغربی کنارے اور یروشلم میں تباہی کی ایک جامع جنگ کا شکار ہیں، جس کا مقصد ہمارے قومی نصب العین کو ختم کرنا اور اسے ایک انسانی مسئلہ میں تبدیل کرنا ہے۔ آج ایک بار پھر سنہ 1948ء کو وقوع پذیر ہونے والی ’’نکبہ" کو دہرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
فلسطینی صدر نے زور دے کر کہا کہ فلسطینی اپنی سرزمین سے بے گھر ہونے کو قبول نہیں کریں گے چاہے انہیں اس کی کوئی بھی قیمت کیوں نہ چکانا پڑے۔ یروشلم اور غزہ کی پٹی سمیت مغربی کنارا ایک ناقابل تقسیم جغرافیائی اکائی" ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فوجی اور سکیورٹی حل کسی کے لیے سلامتی اور امن نہیں لائے گا بلکہ یہ خطے اور دنیا کو تباہی کے دہانے پر دھکیل دے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ واحد حل یہ ہے کہ "فلسطینی عوام کے آزادی اور آزادی کے حقوق کو تسلیم کیا جائے۔ بین الاقوامی قانونی قراردادوں پر مبنی سیاسی حل کی طرف بڑھا جائے۔ ایک بین الاقوامی امن کانفرنس کے انعقاد سے مشرقی یروشلم پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔