Palestinians inspect the site of an Israeli strike on a mosque and houses, amid the ongoing conflict between Israel and Hamas, in Rafah in the southern Gaza Strip, on February 22, 2024. (Reuters)

’پی ایل او‘ کے بغیر کوئی حکومت بنی اور نہ ہی بنے گی: تحریک فتح کا حماس کو جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حماس کے ردعمل میں فتح کے ترجمان عبدالفتاح دولہ نے جمعے کے روز العربیہ اور الحدث کو اپنے بیان میں زور دے کر کہا کہ فلسطینیوں کی واحد نمائندہ ہونے کی بنا پر "فلسطین لبریشن آرگنائزیشن‘‘ کی چھتری سے باہر کوئی بھی حکومت قائم نہیں کی جا سکتی۔

قبل ازیں جمعے کو حماس نے اعلان کیا تھا کہ وہ غزہ کی تعمیر نو اور انتخابات کی تیاری کے لیے فلسطینی دھڑوں کے ساتھ حکومت بنانے کے لیے متفق ہو گئی ہے۔

فتح کے ترجمان نے کہا کہ "ہم فلسطینیوں کو ریلیف فراہم کرنے اور غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک ٹیکنوکریٹک حکومت بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اب ترجیح سیاسی ٹریک پر احترام بحال کرنا اور غزہ کی تعمیر نو کرنا ہے"۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

حماس کے رہنما اسامہ حمدان نے جمعے کے روز اعلان کیا کہ تحریک فلسطینی دھڑوں کے ساتھ ایک حکومت بنانے کے لیے متفق ہو گئی ہے جس کا مقصد فلسطینی عوام کو ریلیف فراہم کرنا، غزہ کی تعمیر نو کا عمل شروع کرنا اور فلسطینی انتخابات کی تیاری کرنا ہے۔

حمدان نے بیروت میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اس بات پر زور دیا کہ حماس اپنے مطالبات پر قائم ہے اور میدان جنگ میں اس کا موقف اس کی حمایت کرتا ہے۔ اسرائیلی فوج جنگ کے کسی بھی مرحلے میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو گی۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

حماس کے رہ نما نے ورلڈ فوڈ پروگرام اور اقوام متحدہ کے ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزینوں (اونروا) سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی اقدامات کی تعمیل نہ کریں اور شمالی غزہ میں فوری طور پر کام پر واپس جائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب ہمارے لوگ بین الاقوامی برادری، اقوام متحدہ اوراس کے اداروں کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ انہیں ضروری امداد اور ریلیف فراہم کرنے ان پرسے محاصرہ ختم کرے۔

حمدان نے مزید کہا کہ "ہم عالمی فوڈ پروگرام اور اقوام متحدہ کے تمام اداروں بشمول UNRWA سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی قانونی اور انسانی ذمہ داریوں کی تعمیل کرتے ہوئے فلسطینیوں کوریلیف فراہم کرنے اور قحط کے بڑھتے ہوئے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے موثر اور سنجیدہ اقدامات کریں"۔

حماس کے رہ نما نے وضاحت کی کہ اسرائیل اب بھی اپنے مطالبات خاص طور پر جنگ بند کرنے، بے گھر ہونے والوں کی واپسی اور محاصرہ اٹھانے کے حوالے سے اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں