اگرچہ بہت سے مبصرین اس بات کو مسترد کرتے ہیں کہ غزہ پر اسرائیلی جنگ جلد ہی ختم ہو جائے گی، تاہم فلسطینی پٹی پرحکومت کرنے کے بارے میں بات چیت جاری ہے۔
کئی بین الاقوامی اداروں نے جنگ کے بعد غزہ کی پٹی کے انتظام کے لیے مختلف نظریات تجویز کیے۔ ان تجاویزمیں ایک یہ ہے کہ غزہ کو فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کیا جائے یا ٹیکنو کریٹس کی حکومت کے حوالے کیا جائے۔
دوسری جانب بین الاقوامی سفارت کاروں نے غزہ کے معاملات کو سنبھالنے کے لیے سابق فلسطینی وزیر اعظم سلام فیاض کا نام تجویز کیا ہے۔
غزہ کی پٹی میں جنگ کے خاتمے کے بعد اسرائیلی براڈکاسٹنگ اتھارٹی نے پیر کو اطلاع دی ہے کہ سلام فیاض غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کے حکمران کے طور پر ’فیورٹ‘ ہوسکتے ہیں۔
غیر علانیہ گفتگو
سلام فیاض کا نام غیر علانیہ بین الاقوامی مذاکرات کے دوران لیا گیا کیونکہ اتھارٹی کے ذرائع کے مطابق وہ فلسطینی اداروں کے نمایاں بانیوں میں سے ایک ہیں۔
ذرائع نے باتیا کہ بات چیت میں حصہ لینے والی کچھ بین الاقوامی جماعتوں نے سلام فیاض میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا، لیکن اس بات پر زور دیا کہ "آخر میں فیصلہ فلسطینیوں کا ہونا چاہیے"۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اب تک اسرائیلی جنگی کونسل کی راہداریوں میں غزہ کی پٹی پر جنگ کے بعد کے دن کے معاملے پر بات کرنے سے انکار کیا ہے۔
لیکن انہوں نے پچھلے بیانات میں اس بات کی تصدیق کی کہ غزہ کی انتظامیہ الفتح اور حماس کے بغیر ہو گی۔
نیتن یاہو جنہیں جنگ شروع ہونے کے بعد سے بین الاقوامی اور اندرونی دباؤ کا سامنا ہے نے پٹی کے انتظام و انصرام کو سنبھالنے والی موجودہ فلسطینی اتھارٹی کو بھی مسترد کر دیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ فیاض نے 2007 میں فلسطینی حکومت کی صدارت سنبھالی تھی اور 2013 تک اس عہدے پر فائز رہے۔