وسطی غزہ کے علاقے النصیرات میں اسرائیلی حملے میں جاں بحق ہونے والوں کی نعشیں

نصیرات کیمپ غزہ کے ’’قتل عام‘‘ میں 35 سے 45 افراد جان سے گئے: انروا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے غزہ کے نصیرات کے علاقے میں کیمپ 2 میں واقع "السردی" مڈل اسکول کی عمارت کو براہ راست میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں 35 سے 45 کے درمیان فلسطینی جان سے گئے جبکہ درجنوں زخمی بتائے جاتے ہیں۔ العربیہ کے نامہ نگار نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

غزہ کی پٹی میں حکومتی ذرائع نے جمعرات کو صبح کے وقت اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں کم از کم 32 فلسطینی مارے گئے۔ یہ حملہ پٹی کے وسط میں نصیرات میں بے گھر افراد کی خیمہ بستی پر کیا گیا۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

فلسطینی میڈیا آفس نے اس واقعے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں تصدیق کی کہ درجنوں بے گھر افراد کی رہائش گاہ والے سکول کے کئی کمروں کو نشانہ بنایا گیا۔ میڈیا آفس نے اسے اسرائیلی فوج کی ایک ’بہیمانہ کارروائی‘ اور وحشیانہ قتل عام قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہنگامی اور امدادی ٹیمیں اب بھی درجنوں لاشوں اور زخمیوں کو دیر البلح کے "شہداء الاقصیٰ" ہسپتال میں منتقل کر رہی ہیں جو اب زخمیوں اور بیماروں کی گنجائش سے تین گنا زیادہ بوجھ کےساتھ کام کر رہا ہے۔

اسرائیلی فوج نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اس نے وسطی غزہ میں ’انروا‘ اسکول کے اندر "حماس کے کمپاؤنڈ" کو نشانہ بناتے ہوئے ایک "مہلک" حملہ کیا ہے۔

وسطی غزہ میں النصیرات کیمپ میں انروا سکول پر حملہ [ایسوسی ایٹڈ پریس]

کواڈ کاپٹر طیاروں نے النصیرات کیمپ کے مشرق میں شاہراہ العشرین کے اطراف میں فائرنگ کی اور المغازی اور البریج کیمپوں کے مشرق میں شدید گولہ باری کے ساتھ رفح شہر کے مغرب میں واقع محلوں کو شدید نشانہ بنایا۔

اسرائیلی طیاروں نے نصیرات کیمپ کے جنوب میں واقع ابو عبیدہ مسجد کے نزدیک واقع ابو بطحان خاندان کے ایک مکان کو بھی نشانہ بنایا اور قابض طیارے نے نصیرات کیمپ کے جنوب میں واقع الزویدہ قصبے پر حملہ کیا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں