Palestinian patients accompanied by women, sit inside a vehicle before being transferred for treatment abroad through Kerem Shalom crossing, amid the Israel-Hamas conflict, in Khan Younis in the southern Gaza Strip June 27, 2024. REUTERS/Mohammed Salem
غزہ سے کینسر کے 21 مریض کرم سالم کراسنگ سے مصر داخل
رفح راہداری کی مسلسل بندش سے فلسطینیوں کی مشکلات میں اضافہ
مصر کے العریش شہر کے ایک طبی ذریعہ نے بتایا کہ کینسر کے 21 مریض جمعرات کو جنگ سے تباہ حال غزہ کی پٹی سے کرم شالوم راہداری کے ذریعے مصر پہنچے۔
"انہیں علاج کے لیے متحدہ عرب امارات لے جایا جائے گا۔" یہ بات ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے اے ایف پی کو بتائی کیونکہ وہ میڈیا سے بات کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔
مئی کے اوائل میں جب اسرائیلی افواج نے ٹرمینل کے فلسطینی حصے پر قبضہ کیا تو رفح سرحدی راہداری کو بند کر دیا تھا جس کے بعد سے یہ غزہ سے پہلا انخلاء ہے۔
رفح راہداری جو امداد اور انخلاء کے لیے ایک اہم راستہ ہے، اسے دوبارہ کھولنے کے لیے مذاکرات بار بار ناکام ہو چکے ہیں۔
قاہرہ نے راہداری کے ذریعے کارروائی دوبارہ شروع کرنے سے انکار کر دیا ہے جب تک فلسطینی حصہ اسرائیلی افواج کے کنٹرول میں ہے۔
کچھ امدادی ٹرکوں کا رخ اسرائیل کے قریب کرم شالوم راہداری کی طرف موڑ دیا گیا ہے لیکن انسانی ہمدردی کے ذرائع کہتے ہیں کہ فلسطینی سرزمین میں داخل ہونے والے ٹرکوں کی یومیہ اوسط 90 سے بھی کم ہے۔
اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ غزہ کے باشندوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے روزانہ کم از کم 500 ٹرکوں کی ضرورت ہے۔
اقوامِ متحدہ نے بار بار قحط زدہ اور بمباری سے متأثرہ غزہ میں انسانی بحران پر خطرے سے آگاہ کیا ہے جہاں چند ایک باقی ماندہ ہسپتال کام کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں کیونکہ خوراک اور دیگر ضروری اشیاء کا حصول مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
غزہ پر اسرائیلی جارحیت میں اب تک 37 پزار سے زائد فسلطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 86 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔