غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ نسل کشی ہے، لڑائی نہیں: مشیرمحمود عباس کا مشعل کو جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

فلسطینی صدر کے مشیر محمود الھباش نےکہا ہے کہ حماس صحیح راستے سے ہٹ رہی ہے۔وہ صرف نعرے لگا رہی ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ غزہ کی نسل کشی کو دوسرے خطوں میں دہرانا چاہتی ہے۔

قبل ازیں حماس کے بیرون ملک امور کے سربراہ خالد مشعل نے العربیہ/الحدث کودیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ غزہ تباہ ہوا اور سب جانتے ہیں۔

اس پر فلسطینی صدر کے مشیر نے واضح کیا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ حماس کی طرف سے لڑی جانے والی لڑائی نہیں ہے بلکہ نسل کشی ہے۔ انہوں نے الزام عاید کیا کہ حماس فلسطینیوں کے درمیان تقسیم کو برقرار رکھنا اور اسے ایک فطری معاملہ بنانا چاہتی ہے۔

حماس سیاسی انتشار پر عمل پیرا ہے

انہوں نے کہا کہ اوسلو معاہدہ ایک مرحلہ ہے اور ہم ان پر عمل نہیں کرتے۔ حماس سیاسی انتشار پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے مشعل کے بیان کے جواب میں کہا کہ موجودہ حالات میں اوسلو معاہدے کے بارے میں بات کرنا فضول ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زوردیا کہ حماس اپنی پالیسیوں کی قیمت کے طور پر فلسطینی عوام کو قربان کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے مشعل کےبیان کے جواب میں مزید کہا کہ حماس نے بغاوت کی ہے اور وہ قومی اتحاد میں رکاوٹ ہے۔

"غزہ کو مغربی کنارے سے الگ کرنے کی کوشش"

محمود الھباش نے مشعل کے جواب میں کہا کہ حماس تقسیم کی وجہ ہے اور فلسطینی عوام کو اس کا احساس ہے۔ حماس ہی قومی اتحاد کی حکومت کے خلاف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حماس چاہتی ہے کہ اتھارٹی یروشلم کے بغیر انتخابات کرائے۔یہ غداری ہے، کیونکہ یہ غزہ کو مغربی کنارے سے الگ کرنے کے پر زور دینا ہے۔

الھباش نے العربیہ/الحدث کو بتایا کہ فلسطینی عوام حماس کے عزائم کے لیے استعمال ہونے والی شے نہیں ہیں۔

"مزاحمت کی قیمت"

حماس کے بیرون ملک سربراہ خالد مشعل نے کہا کہ غزہ تباہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا یہ کہ مزاحمت کرنے کی بڑی قیمت ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ مزاحمت کی قیمت پر غزہ کو تباہ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم صحیح معنوں میں اوسلو کے آگے کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ اب اس کے بارے میں بات کرنے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ حقیقت ہمیں اوسلو معاہدے سے آگے بڑھ جانے پر مجبور کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صرف غزہ نہیں بلکہ ہر کسی کو لڑائی میں شامل ہونا چاہیے۔ "فلسطینی گھر کو دوبارہ ترتیب دینا ایک ناگزیر حق ہے جس سے بچ کر نکلا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں فلسطینیوں کے گھر کو ترتیب دینے کے لیے جنگ کے خاتمے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ ایران کے کردار سے متعلق خالد مشعل نے وضاحت کی کہ تہران کا کردار سات اکتوبر کے حملے کے بعد سیاسی اور عسکری طور پر سامنے آیا۔

واضح رہے سات اکتوبر کو حماس نے حیران کن طور پر اچاک غزہ سے اسرائیلی علاقوں میں حملہہ کرکے 1195 افراد کو ہلاک اور 251 کو یرغمال بنا لیا تھا۔ 116 یرغمالی اب تک غزہ میں ہیں جن میں سے 42 کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ دوران حراست ہی مارے گئے ہیں۔

سات اکتوبر 2023 سے ہی اسرائیل کی صہیونی فورسز نے غزہ پر جارحیت شروع کردی تھی اور فلسطینی حکام نے 26 جون 2024 کو بتایا کہ اب تک اس قتل عام میں 37 ہزار 718 فلسطینیوں کو شہید کردیا گیا ہے۔ غزہ کی پٹی کے ہر علاقے میں بمباری کرکے عمارتوں اور دیگر انفراسٹرکچر کو ملیا میٹ کردیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں