(نتنياهو)غالانت ونتنياهو

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو اور وزیر دفاع میں اختلافات شدت اختیار کرگئے

نیتن یاھو نے وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کو موساد اور شین بیت کے سربراہوں کے ساتھ اجلاس میں شرکت سے روک دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے مذاکرات میں پیش رفت کے پس منظر میں اسرائیلی میڈیا رپورٹس میں وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے درمیان نئے اختلافات کی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔

نیتن یاہو کی طرف سے انٹیلی جنس اداروں موساد اور شین بیت کے سربراہوں کے ساتھ منعقدہ میٹنگ میں گیلنٹ کو شرکت سے روک دیا گیا تھا۔

نیتن یاہو نے وزیر دفاع کی موساد اور شن بیت کے سربراہوں کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی تفصیلات پر بات کرنے کے لیے نجی ملاقات کی اجازت نہیں دی۔

نیتن یاہو نے گیلنٹ کو یہ بھی بتایا کہ "میٹنگ میری موجودگی میں ہونی چاہیے۔ میں منی سکیورٹی کبینٹ " کی قیادت کرتا ہوں۔

موساد کی سربراہی میں ایک اسرائیلی وفد بھیجنے کی تجویز

جمعرات کو اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے حماس کی تجاویز پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے سکیورٹی کابینہ کا اجلاس منعقد کیا، جہاں نیتن یاہو نے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر تفصیلی بات چیت کے لیے ایک وفد بھیجنے کا اعتراف کیا۔

نیتن یاہو کے دفتر نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے امریکی صدر جو بائیڈن کو مطلع کیا ہے کہ انہوں نے قیدیوں کے حوالے سے مذاکرات جاری رکھنے کے لیے ایک وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی سربراہی موساد کے سربراہ کر رہے ہیں۔

وفد دوحہ جائے گا

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ بائیڈن نے نیتن یاہو کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے کہ اسرائیلی مذاکرات کاروں کو جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کی کوشش میں امریکی، قطری اور مصری ثالثوں سے بات چیت کی اجازت دی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ دونوں رہ نماؤں نے حماس کی جانب سے تازہ ترین ردعمل پر تبادلہ خیال کیا۔

جبکہ العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ موساد کے سربراہ اور اسرائیلی وفد قطر کے وزیراعظم سے ملاقات کے لیے دوحہ جائیں گے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

اختلاف کوئی نئی بات نہیں

یہ بات قابل ذکر ہے کہ نیتن یاہو اور گیلنٹ کے درمیان تنازعہ کوئی نیا نہیں ہے، کیونکہ وزیر اعظم نے اس سے قبل گیلنٹ کو حکومت سے برطرف کرنے کی کوشش کی تھی۔ مگران کے خلاف بھی ملک میں مظاہرے پھوٹ پڑے تھے جس کے بعد انہوں نے گیلنٹ کو ہٹانے کا فیصلہ واپس لے لیا تھا۔

گزشتہ مئی میں، جنگ کے بعد غزہ کی پٹی کے انتظام پر اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ اور وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان ایک بے مثال عوامی زبانی بحث چھڑ گئی۔

گیلنٹ نے غزہ کے مستقبل کا منصوبہ تیار کرنے میں تاخیر پر بھی نیتن یاھو کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

گیلنٹ نے غزہ میں اسرائیلی فوج کے مستقل قیام کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اسرائیل نے غزہ میں مستقل فوج تعینات کی تو اس سے اسرائیل کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہوں گے۔ اس کے علاوہ ایسا فیصلہ اسرائیل کے لیے مالی، عسکری اور سیاسی بوجھ ثابت ہوگا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں