وائٹ ہاؤس میں ایک ذمے دار نے بتایا ہے کہ رواں ماہ کے اواخر میں واشنگٹن میں امریکی صدر جو بائیڈن کی اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات متوقع ہے۔ نیتن یاہو غزہ میں جنگ کے حوالے سے کانگریس میں خطاب کے لیے امریکی دار الحکومت کا دورہ کریں گے۔
اسرائیلی وزیر اعظم 24 جولائی کو کانگریس میں ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس میں خطاب کریں گے۔
ادھر غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جنگ کے لیے امریکی حمایت کے سبب مستعفی ہونے والے 12 سابق امریکی حکومتی ذمے داران نے صدر جو بائیڈن پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے قتل میں ملوث ہے۔
سابق ذمے داران نے منگل کے روز ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ بائیڈن انتظامیہ اسرائیل کی حمایت کر کے اور اسے اسلحے کی کھیپ کی فراہمی جاری رکھنے کے حیلے پیدا کر کے امریکی قوانین کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔
بیان پر دستخط کرنے والوں میں وزارت خارجہ ، وزارت تعلیم اور وزارت داخلہ کے علاوہ وائٹ ہاؤس اور فوج کے سابق اہل کار شامل ہیں۔
وائٹ ہاؤس اور وزارت خارجہ نے فوری طور پر اس بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
واضح رہے کہ غزہ کی جنگ میں اسرائیل کے لیے امریکی عسکری اور سفارتی حمایت پر بین الاقوامی تنقید میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں اب تک 38 ہزار کے قریب جانیں جا چکی ہیں اور انسانی بحران جنم لے چکا ہے۔
امریکی ذمے داران کا مستعفی ہونا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسرائیل کی حمایت کے حوالے سے امریکی حکومت کے اندر کچھ مخالفت موجود ہے۔
واشنگٹن غزہ میں شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ کرتا ہے اور اسرائیل پر زور دیتا ہے کہ وہ امداد کے پہنچنے کا عمل بہتر بنائے۔