غزہ میں موجود اسرائیلی فوج۔ [اے پی]
حماس کے پولیٹیکل بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے جنگ بندی کے مذاکرات دوبارہ صفر کی سطح پر آسکتے ہیں۔
حماس نے ٹیلی گرام پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں کہا کہ ہنیہ نے ثالث ممالک کی قیادت ساتھ فون پر بات کی جس میں انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن "نیتن یاہو اور ان کی فوج" کو مذاکرات کے ممکنہ خاتمے کے لیے مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہرایا۔
حماس نے مزید کہا کہ نیتن یاہو غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدے تک پہنچنے کی خاطر ہونے والے مذاکرات کے درمیان جنگ بندی کے مذاکرات میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس نے ثالث ممالک سے "نیتن یاہو کی چالوں اور جرائم کو روکنے کے لیے" مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا۔
نیتن یاہو نے اتوار کے روز کہا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی کے کسی بھی معاہدے کے تحت اسرائیل کو جنگ کے اہداف حاصل ہونے تک جنگ جاری رکھنے کی اجازت ہونی چاہیے۔
پیر کے روز اسرائیلی ٹینک غزہ شہر کے مرکز میں رات بھر کی بمباری کے بعد داخل ہوئے جس میں غزہ میں حکام کے مطابق درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔
حماس نے کہا کہ جب وہ جنگ کو روکنے کے لیے "معاہدے تک پہنچنے میں سہولت فراہم کرنے کی خاطر لچک اور مثبت" سوچ" کے ساتھ آگےبڑھ رہی ہے۔ مگر نیتن یاہو مذاکرات میں مزید رکاوٹیں ڈال رہا ہے اور غزہ میں کارروائیوں کو بڑھا رہا ہے‘‘۔
حماس نے ہفتے کے روز غزہ میں نو ماہ سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے امریکی منصوبے کے ایک اہم حصے کو قبول کرتے ہوئے مستقل جنگ بندی کے اپنے مطالبے کو ترک کرنے کا اعلان کیا تھا۔
مصری قاہرہ نیوز چینل نے اطلاع دی ہے کہ ’سی آئی اے‘ کے ڈائریکٹر ولیم برنس کی سربراہی میں ایک امریکی وفد پیر کو قاہرہ پہنچا جہاں اس نے جنگ بندی مذاکرات کے نئے دور کے آغاز کے حوالے سے مصری سکیورٹی حکام سے ملاقات کی۔