Volker Turk, United Nations High Commissioner for Human Rights, attends the Human Rights Council at the United Nations in Geneva, Switzerland September 11, 2023. REUTERS/Denis Balibouse
اسرائیلی وزیر کے غزہ پر بھوک مسلط کرنے کے بیان پر یو این عہدیدار کا حیرانگی کا اظہار
سرکاری اہلکاروں کے ایسے بیانات فوری طور پر بند ہونے چاہئیں: ترجمان جیریمی لارنس
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک اسرائیلی وزیرِ خزانہ کے اس تبصرے پر حیرانگی کا اظہار کیا کہ یرغمالیوں کو آزاد کروانے کے لیے غزہ کی آبادی کو بھوکا مارنا "جائز" ہو سکتا ہے۔ یہ بات وولکر ترک کے ترجمان نے جمعے کو کہی۔
ترجمان جیریمی لارنس نے ایک پریس کانفرنس میں کہا، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق "ان الفاظ کی سخت ترین مذمت کرتے ہیں جو معصوم شہریوں کے خلاف نفرت کو ہوا دیتے ہیں۔"
اسرائیل کے وزیرِ خزانہ بیزالِل سموٹریچ نے اس ہفتے کے اوائل میں ایک کانفرنس میں کہا: "دنیا میں کوئی بھی ہمیں 20 لاکھ لوگوں کو بھوکا مارنے کی اجازت نہیں دے گا اگرچہ یرغمالیوں کو آزاد کروانے کے لیے یہ جائز اور اخلاقی ہی ہو۔" ان کے اس بیان سے ایک نیا تنازعہ شروع ہو گیا ہے۔
سموٹریچ نے کہا، "ہم علاقے میں انسانی امداد لا رہے ہیں کیونکہ ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔ ہم ایک ایسی صورتِ حال سے دوچار ہیں جس میں یہ جنگ چلانے کے لیے بین الاقوامی قانونی حیثیت درکار ہے۔"
وولکر ترک کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا، "جنگی طریقہ کار کے طور پر شہریوں کو بھوکا مارنا جنگی جرم ہے۔"
لارنس نے کہا، "یہ براہِ راست اور عوامی بیان دیگر ظالمانہ جرائم کے لیے اشتعال دلا سکتا ہے۔ ایسے اور خاص طور پر سرکاری اہلکاروں کے بیانات فوری طور پر بند ہونے چاہئیں، ان کی تحقیق ہونی چاہیے اور جرم ثابت ہو جانے پر ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی اور سزا ہونی چاہیے۔"
غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے محصور فلسطینی علاقے میں انسانی صورتِ حال بدستور تشویشناک ہے اور تقریباً 2.4 ملین آبادی بے گھر اور خوراک کی شدید کمی کا شکار ہے۔