15 اگست جنگ بندی مذکرات: اسرائیل نے مذاکرات کی ٹیم بھیجنے سے اتفاق کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

اسرائیل نے غزہ جنگ بندی کے لیے اگلے ہفتے سے شروع ہونے والے مذاکرات میں اپنا نمائندہ بھیجنے سے اتفاق کر لیا ہے۔ یہ اتفاق ثالث ملکوں کی طرف سے اسرائیل اور حماس کو کی گئی درخواست کے بعد کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم اسرائیل نیتن یاہو کے دفتر نے کہا ہے کہ کوشش کی جا رہی ہے کہ پورے خطے پر پھیلی نئی صورتحال سے بچا جا سکے۔

یہ اعلان ایران کی طرف سے اس دعوے کے بعد آیا ہے کہ اسرائیل علاقے میں جنگ پھیلانا چاہتا ہے۔ اسی طرح کے تجزیے بعض مبصرین نے بھی کیے تھے اور اسرائیل پر تنقید کی تھی کہ نیتن یاہو مذاکرات کو جان بوجھ کر روک رہے ہیں تاکہ غزہ میں جنگ کو طول دیا جا سکے۔

اسرائیلی فوج نے جمعرات کے روز خان یونس کے علاقے میں کئی آپریشن شروع کیے ہیں۔ اس علاقے سے ماہ اپریل میں اسرائیلی فوج کو واپس بلا لیا گیا تھا۔ اب کئی ماہ کے بعد حماس کے ساتھ دوبارہ سخت جھڑپیں شروع ہونے کے بعد فوج کو واپس بھیجا گیا ہے۔

اسرائیل نے دس ماہ پہلے غزہ میں جنگ شروع ہونے سے پہلے اعلان کیا تھا کہ وہ حماس کا خاتمہ کر دے گا۔ لیکن دس ماہ کی اس جنگ کے دوران اسرائیلی فوج کو کئی علاقوں میں بار بار حماس سے لڑائی کے لیے آنا پڑا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ حماس کا چیلنج ابھی بھی حماس کے لیے موجود ہے۔

خان یونس کے ایک شہری احمد النجار نے کہا کہ جو تباہی خان یونس میں ہوئی ہے ، یہ یہودیوں اور حماس دونوں کے لیے کافی ہونی چاہیے۔ اس نے چلاتے ہوئے کہا خدا کے لیے اب ہم پر رحم کرو۔ ہماری عورتیں اور بچے گلیوں میں مر رہے ہیں۔ ہمارے لوگ کہاں جائیں؟
جب اسرائیلی فوج نے خان یونس سے نکلنے کا حکم نامہ جاری کیا تھا تو 'اے ایف پی' کے ٹی وی نے لوگوں کے ہجوم دکھائے تھے جو اڑتی دھول میں شہر چھوڑ رہے تھے۔ وہ ٹوٹی گلیوں سے پیدل، گدھوں پر اور موٹر سائیکلوں پر جا رہے تھے اور ان میں سے کچھ بچی کھچی اشیاء ان کے پاس تھیں۔

خان یونس ہی کے ایک اور رہائشی محمد الدین نے کہا ہمیں اس جنگ کے دوران 15 بار نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔

یاد رہے دس ماہ کی جنگ کے دوران صرف ایک بار جنگ بندی ہوئی ہے۔ جو کئی وقفوں پر محیط تھی اور صرف ایک ہفتے کے لیے تھی۔ اس دوران حماس نے فلسطینی اسیران کے تبادلے میں کچھ یرغمالیوں کو رہا کر دیا تھا۔ امریکہ ، قطر اور مصری ثالثوں نے نومبر کی اس جنگ بندی کے بعد بھی مسلسل کوششیں کی ہیں کہ جنگ بندی ہو جائے۔ جس کے لیے وہ ابھی تک کوشاں ہیں۔

جمعرات کے روز ان تینوں ثالثوں نے ایک بیان جاری کیا جس میں اسرائیل اور حماس سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ 15 اگست سے دوحا یا قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کریں۔ تاکہ معاہدے کی طرف حتمی طور پر بڑھا جا سکے۔

اس بیان میں کہا گیا تھا کہ ثالث ملک دونوں فریقوں کے درمیان حتمی طور پر ایک پل بننے کی کوشش میں ہیں اور اس کے لیے کچھ تجاویز پیش کر رہے ہیں۔ تاکہ تنازع طے ہوجائے۔

بعدازاں اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے جمعرات کو کہا 'ہم مذاکرات کے لیے اپنی ٹیم بھیج رہے ہیں۔ تاکہ مذاکرات کی تفصیلات طے ہوں اور عملدرآمد شروع ہو سکے۔'

واضح رہے اب تک اسرائیل 39700 سے زائد فلسطینیوں کو ہلاک کر چکا ہے۔ زخمیوں کی تعداد 92 ہزار ہے۔ ان ہلاک شدہ فلسطینیوں میں خواتین اور بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔
اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ امریکہ و اسرائیل کے وزرائے دفاع کے درمیان ملاقات کے دوران اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرانے کی اہمیت کے ایشو پر تفصیلی بات ہوئی ہے اور اس سلسلے میں معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیز کوششوں پر اتفاق ہوا ہے۔ اس مقصد کے لیے اب نظر آنے والے کام کی ضرورت ہے۔

جبکہ ایران اور حماس اسرائیل پر الزام لگاتے ہیں کہ تہران میں اسماعیل ھنیہ کو اسرائیل نے قتل کیا ہے۔

اسماعیل ھنیہ کے قتل کے محض چند گھنٹوں بعد قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے جنگ بندی کے لیے مذاکرات پر سوال اٹھا دیا تھا کہ اس طرح کی صورتحال میں یہ مذاکرات کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں کہ جب مذاکرات کار مذاکرات کرنے والے ایک فریق کے مذاکرات کار کو ہی مار دیا جائے۔

اسی رات چند گھنٹوں کے فرق کے ساتھ اسرائیل نے ایسی ہی ایک کارروائی کی تھی جس میں حزب اللہ کے کمانڈر فواد شکر ہلاک ہوئے تھے۔

ان دونوں بڑے واقعات کے خلاف ایران، حماس اور حزب اللہ سمیت سبھی اتحادیوں نے اسرائیل سے انتقام لینے کا اعلان کیا ہے۔

اسرائیل کی مدد کے لیے امریکہ نے جنگی اسلحہ اور فوجیں بھیج دی ہیں۔ جبکہ امریکی وزیر خارجہ نے مصر اور قطر کے لیڈروں سے بات کی ہے کہ وہ مذاکرات کو دوبارہ سے شروع کرنے کی کوشش کریں۔

امریکی انتظامیہ کے ایک ذمہ دار افسر نے کہا ابھی اس سلسلے میں بہت سا کام کرنا باقی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں