سعودی عرب میں انسداد بدعنوانی کمیشن

سعودی عرب: سرکاری ملازمین کو اپنے اور قریبی عزیزوں کے اثاثوں کا ثبوت دینا ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں انسداد بدعنوانی کمیشن نے حال ہی میں کابینہ سے منظور ہونے والے کرپشن کی روک تھام کے نئے ضابطہ اخلاق کی وضاحت کرتے ہوئے ایک اور نکتے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اس نئے نظام میں سعودی عرب میں سرکاری ملازمین کو آمدن سے زائد اثاثے رکھنے پر تحقیقات کا سامنا کرنا ہو گا۔

انسداد بدعنوانی کمیشن کا کہنا ہے کہ اگر کسی ملازم کی آمدن اور تنخواہ کے برعکس اس کی دولت اور اثاثوں میں اچانک اضافہ ہو یا اس کے قریبی عزیزوں کی دولت میں اضافہ ہونا شروع ہو تو اسے اس کا ثبوت دینا ہوگا کہ اس کے پاس یہ پیسےکہاں سے آئے؟ آیا اس نے یہ رقم جائز ذریعے سےحاصل کی ہے یا کالا دھن کسی اور ذریعے سے حاصل کیا ہے۔

ام القراء اخبار کے مطابق انسداد بدعنوانی کمیشن کا کہنا ہے کہ اگر وہ اس کے لیے کوئی جائز ذریعہ ثابت نہ کر سکے تو اس کیس کو مالی تحقیقات کرنے والی مجاز عدالت کے سامنے فوجداری کیس کی شکل میں پیش کیا جائے گا۔ اگر ملزم اچانک دولت کے بارے میں درست معلومات نہ دے سکے اور اس رقم کے حصول کے جائز ذریعے کا ثبوت پیش نہ کرے تو اسے سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں