تیل کی برآمد میں نمایاں حیثیت رکھنے والے سعودی عرب نے تیل کے علاوہ برآمدات میں بھی غیرمعمولی کامیابی حاصل کرنا شروع کر دی ہے۔ ماہ مئی کی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے 2.23 ارب ڈالر کی برآمدات کی ہیں۔ پچھلے سال ماہ مئی کے مقابلے میں رواں سال ماہ مئی میں برآمدات میں 19.25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
سعودی عرب کے شماریاتی ادارے کے مطابق تیل کے علاوہ سعودی برآمدات کے حوالے سے ماہ مئی میں چین تیسرا اہم ملک ہے۔ متحدہ عرب امارات نے 3.62 ارب ڈالر کی سعودی برآمدات سے استفادہ کیا ہے۔
مملکت میں کچھ عرصے سے تیل کی مصنوعات اور برآمدات پر انحصار کم کر کے متنوع معیشت کی طرف جانے کے لیے تیل کے علاوہ سعودی برآمدات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق چین سعودی عرب کی مصنوعات کی اہم منزل قرار پایا ہے۔ چین جانے والی برآمدات کی مالیت 15.91 ارب سعودی ریال تک پہنچ گئی ہے۔
ماہ مئی میں جنوبی کوریا کے لیے سعودی عرب سے تیل کی برآمد زیادہ ہوئی۔ یہ کل 13.68 ارب سعودی ریال مالیت کا تیل جنوبی کوریا گیا ہے۔
سعودی عرب کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب سے چین جانے والی ربڑ کی مصنوعات کی مالیت 876.9 ارب سعودی ریال رہی۔
سعودی عرب کے تیار کردہ کمیکلز کی بھی چین میں درآمد ہوئی۔ یہ درآمدی مالیت 851.8 ملین سعودی ریال پر مشتمل تھی۔ ماہ مئی کے دوران سعودی عرب سے چین کو منرلز بھی برآمد کیے گئے۔ ان منرلز کی مالیت 103.7 ملین سعودی ریال تھی۔
ماہ مئی میں چین سعودی عرب کا ایک بڑا شراکت دار ثابت ہوا۔ جو ایشین اقوام میں نمایاں رہا۔ حتیٰ کہ اپریل میں سعودی عرب سے چین جانے والی مصنوعات کے مقابلے میں بھی مئی میں برامدات کا گراف اوپر چلا گیا۔
سعودی حکام کے مطابق ماہ مئی میں چین سے سعودی عرب نے مشینری اور آلات وغیرہ کی برآمدات کی ہے۔ جن کی مالیت بالترتیب 2.68 ارب سعودی ریال اور 1.61 ارب سعودی ریال رہی۔
ماہ مئی کے دوران سعودی عرب نے چین سے 479.5 ملین سعودی ریال مالیت کی مصنوعات درآمد کی ہیں۔ علاوہ ازیں چمڑے اور فر، بیگز ایسے مصنوعات بھی چین سے برآمد کی گئی ہیں۔ جن کی مالیت 18.4 ملین سعودی ریال ہے۔
چین اور سعودی عرب کے درمیان دو طرفہ تعلقات پچھلے کئی برسوں سے بہت شاندار ہیں۔ چین سعودی عرب کے لیے ایک بہت بڑے شراکت دار کے طور پر سامنے آیا ہے اور یہ سلسلہ مشرق وسطیٰ اور چین کے درمیان 2001 سے جاری ہے۔
چین اور سعودی عرب دونوں باہم سٹریٹیجک پارٹنر بن چکے ہیں اور توانائی سمیت خزانہ، تجارت کے حوالوں سے دو طرفہ تعاون کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ اس میں ایک اہم پہلو 'بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹیو' کا بھی ہے۔
چین کی حکومت کے مطابق چین میں درآمد ہونے والے ہر 6 بیرلز میں سے خام تیل کا ایک بیرل سعودی عرب سے چین پہنچتا ہے۔