سعودی عرب میں موسم گرما اختتام اور خزاں کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی ویدر اینڈ کلائمیٹ سوسائٹی کے نائب صدر ڈاکٹر عبداللہ المسند نے کہا ہے کہ آج موسم گرما کا آخری دن ہے اور کل 22 ستمبر کو موسم خزاں کا پہلا دن ہوگا۔

مسند نے کہا کہ ماہرین موسمیات کی چار موسموں میں تقسیم کے مطابق خزاں یکم ستمبر سے شروع ہوتی ہے، جب کہ زائچہ اور ستاروں کا حساب کتاب 6 ستمبر سے شروع ہوتا ہے۔ سورج کی ظاہری حرکت اور خط استوا پر اس کے کھڑے ہونے کے مطابق خزاں کا آغاز اس سال 22 ستمبر کو شروع ہوگا۔ مشہور بھی یہی تاریخ ہے۔

انہوں نے کہا کہ 22 ستمبر رات اور دن کی لمبائی تقریباً پوری دنیا میں برابر ہو جائے گی۔اس کے بعد 21 مارچ کو موسم بہار کے بعد یہ ترتیب برابر ہوگی۔

عبداللہ المسند نے مزید کہا کہ اس طرح کے دنوں میں رات روزانہ ایک منٹ اور 25 سیکنڈ بڑھ جاتی ہے اور آج کا دن 21 دسمبر کے دن سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ لمبا ہوتا ہے۔اس طرح یہ 21 جون کے دن سے ڈیڑھ گھنٹہ چھوٹا ہے۔

موسم خزاں کی آمد آمد

جدہ میں فلکیاتی سوسائٹی کے سربراہ انجینیر ماجد ابو زہرہ نے کہا کہ یہ جان لینا چاہیے کہ خزاں کے موسم میں داخل ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ درجہ حرارت براہ راست گر جائے گا، بلکہ آنے والے ہفتوں کے دوران درجہ حرارت میں کمی کے ساتھ موسم میں تبدیلی بتدریج واقع ہو گی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ خزاں کے موسم میں موسم کے بہت سے اتار چڑھاؤ ہوتے ہیں، کیونکہ یہ موسم گرما اور سردیوں کے درمیان ایک عبوری دور ہوتا ہے۔ اس لیے درجہ حرارت میں مسلسل اتار چڑھاؤ آتا ہے۔ یہ بہت سے عرب ممالک میں بارش کے موسم کا اصل آغاز ہے، جہاں جزیرہ نما عرب سمیت خلیج عرب کے خطے میں گرج چمک کے ساتھ طوفان، باد باراں اور بارشوں کا امکان رہتا ہے۔

ابو زہرہ نے نشاندہی کی کہ موسم خزاں کا آغاز آرکٹک سرکل کے ارد گرد مسلسل موسم گرما کی دھوپ کو ختم کردے گا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں