1

اسماعیل قاآنی کے مقتول جنرل کے جنازے میں روتے ہوئے جذباتی مناظر سوشل میڈیا پر وائرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چند ہفتے قبل منظر عام سے غائب ہونے کے بعد پہلی بار سامنے آنے والے ایرانی ’قدس فورس‘ کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے پاسداران انقلاب کے سینیر عہدیدار عباس نیلفروشان کی آخری رسومات میں شرکت کی۔

قاآنی آج منگل کو بیروت کے جنوبی علاقے الضاحیہ میں اسرائیلی حملوں میں حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ کے ساتھ گذشتہ ماہ ہلاک ہونے والے ایرانی جنرل کی آخری رسومات کے دوران نمودار ہوئے۔

یہ مناظر ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر کیے گئے۔ قاآنی ایک منظر میں جذباتی اور روتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔قاآنی کے زارو قطار روکنے کا منظر سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔

انہوں نے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا اور اپنے آنسو پونچھنے لگے۔ وہ جنازے کے دوران کچھ مذہبی گیت سنتے ہوئے جذباتی ہوگئے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

پاسداران انقلاب نے گزشتہ چند دنوں میں ایک سے زیادہ مرتبہ اس بات کی تصدیق کی تھی کہ 67 سالہ اسماعیل قا آنی ٹھیک ہیں اور معمول کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

دو سینیئر ایرانی سکیورٹی حکام نے گذشتہ ہفتے رائیٹرز کو بتایا تھا کہ ستمبر کے آخر میں بیروت پر حملوں کے بعد سے ان سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ ایک اہلکار نے انکشاف کیا کہ قدس فورس کے کمانڈر بیروت کے جنوبی علاقے الضاحیہ میں تھے جب طاقتورحملوں حزب اللہ کے رہ نما حسن نصر اللہ کے ممکنہ جانشین ہاشم صفی الدین کو نشانہ بنایا گیا لیکن ایک اہلکار نے واضح کیا کہ قاانی نے صفی الدین سے ملاقات نہیں کی۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

29 ستمبر کو

قابل ذکر ہے کہ آخری بار قاآنی حسن نصراللہ کے قتل کے دو دن بعد 29 ستمبر کو تہران میں عبداللہ ہاشم صفی الدین کے دفتر میں آئے تھے۔

لیکن گذشتہ جمعہ 4 اکتوبر کوحسن نصر اللہ کی یاد میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے خطبہ میں شرکت سے ان کی غیر موجودگی نے کئی سوالات کو جنم دیا تھا۔

گذشتہ اتوار کو خامنہ ای کی جانب سے فضائیہ کے کمانڈر میجر جنرل امیر علی حاجی کو تمغہ امتیاز دینے کے موقع پر ان کی غیر موجودگی نے بھی معاملات کو مزید خراب کر دیا۔

تاہم کچھ مبصرین نے ان کی غیر موجودگی کو احتیاطی تدابیر قرار دیا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں