یرغمالیوں کے لواحقین نے نیتن یاہو کی تقریر کے دوران شور اور ہنگامہ کر کے تقریر روک دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم کو اتوار کے روز اس وقت مشکل کا سامنا کرنا پڑا جب اسرائیلی یرغمالیوں کے لواحقین نے ایک تقریب کے دوران شور مچا کر نیتن یاہو کو تقریر روکنے پر مجبور کر دیا۔ یرغمالیوں کے یہ لواحقین اپنے پیاروں کی رہائی کے لیے حکومتی بےحسی پر مبنی پالیسی اور جنگ کو جاری رکھنے کے اصرار کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

ان مظاہرین کے احتجاج کے باعث نیتن یاہو سخت پریشانی میں چپ چاپ ساقط کھڑے رہے۔ بعدازاں مظاہرین اپنے پیاروں کی ہلاکت اور غزہ میں قید ہونے کے بارے میں بآواز بلند نیتن یاہو کو مخاطب کر کے بتاتے رہے۔

واضح رہے اسرائیلی حکومت جسے غزہ جنگ کے دوران بمباری کرتے رہنے کی ایک عادت سی ہو گئی ہے۔ اب غزہ کے باہر بھی جگہ جگہ اسرائیلی بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔

غزہ میں ایک سال سے زائد کی جنگ کے دوران اسرائیلی فوج کو غزہ کی تباہی اور تقریباً 43 ہزار فلسطینیوں کے قتل سے جو کامیابی ملی ہے اس نے غزہ میں جنگ بندی کا راستہ اور بھی مشکل بنا دیا ہے اور بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ اسرائیلی حکومت اپنی کامیابی کے نشیب میں مدہوش ہو کر جنگ بندی کی طرف جلدی نہیں آئے گی۔

تاہم دوسری جانب غزہ میں اب بھی قید 97 یرغمالیوں میں سے 34 ہلاک ہو چکے ہیں۔ یرغمالیوں کے لواحقین جو مسلسل ایک سال سے زائد عرصے سے احتجاج کر رہے ہیں اور اس صورتحال میں بھی حکومت کے سامنے اپنی التجائیں رکھ رہے ہیں کہ ان کے رشتہ دار یرغمالیوں کو رہا کرانے کے لیے اسرائیلی حکومت حماس کے ساتھ ڈیل کر لے۔

تنقید کرنے والے نیتن یاہو پر یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ وہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے سلسلے میں معاہدے میں رکاوٹ ہیں۔ اسی لیے یرغمالیوں کے اہلخانہ اور رشتہ دار نیتن یاہو کو بار بار توجہ دلاتے ہیں کہ وہ یرغمالیوں کی رہائی کو ممکن بنائیں۔

وزیر دفاع نے بھی اتوار کے روز اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ساری کامیابی فوج کے ذریعے حاصل نہیں کی جا سکتی ہے ۔ کچھ کام فوج کے علاوہ بھی ہوتے ہیں اور ان میں سے ایک یہ ہے کہ بدترین رعایتیں قبول کر کے بھی یرغمالیوں کی رہائی ممکن بنائی جائے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں