بیروت کے جنوبی مضافات میں 17 نومبر 2024 کو اسرائیلی حملے کے بعد پھیلتا ہوا دھواں بعبدا سے نظر آ رہا ہے۔ (رائٹرز)

لبنان کی حزب اللہ اسرائیل کے ساتھ امریکی جنگ بندی معاہدے کے لیے تیار

بعض نکات پر مفاہمت ہونا باقی ہے، اسرائیل حملوں کی آزادی کا خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اتوار کو حکام اور سفارتی ذرائع نے بتایا کہ لبنان کی حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ تباہ کن جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کی تیار کردہ جنگ بندی تجویز پر کشادگی اور قبولیت کا اظہار کیا ہے۔

اگرچہ واشنگٹن کی طرف سے گذشتہ ہفتے بیروت کو ارسال کردہ مسودے پر کوئی واضح معاہدہ نہیں ہوا ہے تاہم مذاکرات میں شامل ذرائع کے مطابق گروپ نے "مثبت اشارے" فراہم کیے ہیں کہ وہ معاہدے کے لیے تیار ہے۔

لبنان کے سرکاری ردِ عمل کی بنیاد پر صدر جو بائیڈن کے ایک سینئر امریکی معاون آموس ہوچسٹین آئندہ دنوں میں بیروت کا سفر کرنے کے لیے تیار ہیں۔

شیعہ مزاحمت کار گروپ کے قریبی ساتھی پارلیمنٹ کے سپیکر نبیہ بری لبنانی حکومت کے ساتھ ساتھ حزب اللہ کی جانب سے بھی مذاکرات کر رہے ہیں۔

ان کی ٹیم نے کہا ہے کہ وہ بدستور اس تجویز کا مطالعہ کر رہے ہیں اور پیر کو حزب اللہ کا سرکاری پیغام پہنچائیں گے۔ اس کی بنیاد پر ہوچسٹین بیروت اور ممکنہ طور پر اسرائیل کے لیے پرواز کر سکتے ہیں۔

اسرائیل کا مؤقف واضح نہیں ہے جبکہ وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے مبینہ طور پر جنگ بندی پر مذاکرات کرنے میں بائیڈن کو خارجہ پالیسی کی کامیابی "تحفے" میں دینے پر رضامندی ظاہر نہیں کی ہے۔ تاہم بائیڈن اور نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان گزشتہ ہفتے ہونے والی ملاقات سے واقف حکام نے العربیہ کو بتایا کہ مؤخر الذکر نے جلد از جلد جنگ کے خاتمے کی غرض سے ایک معاہدے کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا۔

ذرائع اور حکام نے بتایا کہ ٹرمپ کی انتقالِ اقتدار کی ٹیم کے ارکان اور کیپٹل ہل پر ریپبلکن قانون ساز ایک معاہدے کے خلاف ہیں اور انہوں نے تجویز دی ہے کہ بائیڈن انتظامیہ اسرائیل کے لیے سازگار معاہدہ پیش کرے۔ ریپبلکنز نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان 2022 میں ہوچسٹین کی ثالثی میں ہونے والے سمندری سرحدی معاہدے کی بھی مخالفت کی تھی حالانکہ اس کے بعد ریپبلکن اور ڈیموکریٹ کی یکے بعد دیگرے آنے والی انتظامیہ اسی طرح کے معاہدے پر کام کرتی رہی ہیں۔

لبنان اور اسرائیل 1948 سے تکنیکی طور پر جنگ میں ہیں۔

عالمی بینک نے کہا ہے کہ جاری جنگ کے نتیجے میں لبنان میں کم از کم 8.5 بلین ڈالر کے مادی اور معاشی نقصانات ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی ایجنسیوں نے بار بار اسرائیل کی کریڈٹ ریٹنگ کم کی ہے اور سی این این کے تجزیئے کے مطابق غزہ اور لبنان کی جنگوں سے ملک کو اگلے سال تک 66 بلین ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔ سی این این نے اطلاع دی کہ یہ گذشتہ مہینے اسرائیل کی جی ڈی پی کا تقریباً 12 فیصد تھا۔

امریکہ کے بار بار انتباہ کے باوجود کہ اگر لبنان کا محاذ بند نہ ہوا تو اسرائیل کے حملوں میں مزید شدت آ سکتی ہے، حزب اللہ نے اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا۔ بالآخر، ستمبر میں حزب اللہ کے مواصلاتی نیٹ ورک پر دو روزہ اسرائیلی حملے اور حسن نصر اللہ سمیت گروپ کی قیادت کے قتل کے بعد ایک مکمل جنگ چھڑ گئی۔

اسرائیل نے اس کے بعد سے جنوبی لبنان پر حملہ کیا ہے اور 1982 کے بعد چوتھی بار ایسا ہوا ہے۔

لبنان کے طول و عرض میں اسرائیلی حملوں سے حزب اللہ کی صلاحیتوں میں نمایاں کمی آئی ہے اور اس کے اعلیٰ کمانڈروں اور اہلکاروں کا صفایا ہو گیا ہے۔ تاہم امریکی جائزوں کے مطابق اسرائیل کے ساتھ سرحد پر ان کی زمینی افواج برقرار ہیں۔

حکام اور سفارتی ذرائع نے کہا ہے کہ موجودہ امریکی مسودے میں حقِ دفاع اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی مانیٹرنگ فورس کے بارے میں جو زبان لکھی گئی ہے، یہ دو اہم نکات ہیں جن پر اتفاق نہیں ہو سکا۔

لبنان امریکی تجویز میں اپنے دفاع کے بارے میں زبان کو مبہم سمجھتا ہے جس سے اسرائیل کو لبنانی فضائی حدود میں روزانہ پروازیں جاری رکھنے یا ان اہداف پر حملہ کرنے کی اجازت مل جاتی ہے جنہیں وہ سکیورٹی خطرہ سمجھتا ہو۔ فرانسیسی وزیرِ خارجہ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ اسرائیل جب چاہے حملہ کرنے کی اجازت حاصل کرنے پر بضد ہے۔ جین نول باروٹ نے کہا، "یہ ایک مضبوط ملک کی خودمختاری کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔"

اقوامِ متحدہ کی امن فوج (یونی فل) سے الگ بین الاقوامی فوج میں بعض عرب ممالک، جرمنی، برطانیہ، فرانس اور امریکہ شامل ہوں گے۔ ذرائع نے کہا ہے کہ اس میں زمینی افواج شامل نہیں ہوں گی۔ لیکن حزب اللہ سے وابستہ اخبار الاخبار کے مطابق گروپ نے جرمنی اور برطانیہ کی شمولیت کو مسترد کر دیا ہے۔

قرارداد 1701 سے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جولائی 2006 کی جنگ ختم ہو گئی تھی۔

موجودہ امریکی حکام نے اس بات سے بھی خبردار کیا ہے کہ لبنان میں جنگ کے خاتمے کی کوششیں کھلے عام نہیں ہوں گی۔ اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا لبنان میں جنگ بندی آئندہ ٹرمپ انتظامیہ کی ترجیح ہو گی جسے خارجہ پالیسی میں بائیڈن انتظامیہ سے کئی ابہام ملیں گے۔

اسرائیل نے ہفتے کے آخر میں لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اپنے حملوں کا دائرہ وسیع کر دیا جس کی انتہا گنجان آباد علاقوں میں شدید حملوں کے ساتھ ہوئی۔ اتوار کو اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے شعبہ مواصلات کے سربراہ اور ان کی ٹیم کے دیگر ارکان بھی ہلاک ہو گئے تھے۔ اسرائیلی حملوں میں ایل اے ایف کے دو فوجی ہلاک اور بعض زخمی ہو گئے جن کے بارے میں لبنانی فوج نے کہا کہ جنوبی لبنان میں ان کی پوزیشن کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔ دریں اثنا حزب اللہ نے حالیہ دنوں میں نئے ہتھیار متعارف کرائے ہیں اور اسرائیل کے اندر بھی گہرائی سے حملہ کیا ہے۔

بائیڈن کے ایلچی ہوچسٹین نے گذشتہ ہفتے ایگزیاس کو بتایا، ہم جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے "پُرامید" ہیں اور "یہ ایک موقع ہے۔"

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں