سینکڑوں ماہرین ثقافت و آثار قدیمہ نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ لبنانی ورثے کو جنگ سے محفوظ بنایا جائے۔ لبنان میں قدیمی رومی دور کی یاد گاریں خطرے میں ہیں۔ یونیسکو نے اس ورثے کو عالمی ورثہ قرار دے رکھا ہے۔
اس اجتماعی مطالبے پر 300 نمایاں ماہرین ثقافت نے دستخط کیے ہیں۔ یونیسکو کے سربراہ آڈرے آڈولے نے ایک روز پہلے ہی پیرس میں لبنانی ورثے کی حفاظت کے لیے اقدامات پر زور دیا ہے۔
ماہرین نے یونیسکو سے مطالبہ کیا ہے کہ بعلبک اور دوسری جگہوں پر قدیمی ورثے کے مقامات کو غیر جنگی زون قرار دیا جائے ، تاکہ یہ حملوں سے محفوظ رہ سکیں۔ نیز ان علاقوں میں 1954 کے ہیگ کنونشن کے تحت بین الاقوامی مبصرین مقررر کیے جائیں گے۔
ماہرین ثقافت کے اجتماعی محضر نامے میں کہا گیا ہے لبنان کے ثقافتی ورثے کو بڑے پیمانے پر قدیم شہروں جیسے بعلبیک، سور اور انجار میں یونیسکو کے عالمی ورثے کے مقامات کے ساتھ ساتھ دیگر تاریخی مقامات پر ہونے والے حملووں سے خطرہ لاحق ہے۔
اسی طرح بااثر ریاستوں سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوجی کارروائی کے خاتمے پرزور دیں اور آثار قدیمہ سے متعلق مقامات کو نقصان سے بچانے کے لیے پابندیاں متعارف کرائیں ۔اس محضر نامے پر دستخط کرنے والوں کو برطانیہ، فرانس، اٹلی اور امریکہ کے میوزیم کیوریٹر، ماہرینِ آثار قدیمہ اور مصنفین کی حمایت بھی حاصل ہے۔
حزب اللہ اور اسرائیل ستمبر کے اواخر سے جنگ میں ہیں، جب اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں حماس کے خلاف لڑائی سے اپنی شمالی سرحد کو محفوظ بنانے پر توجہ مرکوز کی، یہاں تک کہ غزہ کی جنگ جاری ہے۔ یونیسکو کے مطابق عالمی ورثے کے مقامات کو جنگی استثنی ہوتا ہے۔