22 نومبر 2024 کو غزہ شہر کے جنوب میں اسرائیلی حملے کے بعد فلسطینی ایک عمارت کے ملبے کا معائنہ کر رہے ہیں۔ (اے ایف پی)

اسرائیلی حملوں میں 19 افراد ہلاک ہو گئے: شہری دفاع ایجنسی غزہ

مختلف مقامات پر فضائی اور ٹینکوں کے حملے، کئی زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے کہا ہے کہ ہفتے کے روز اسرائیلی فضائی حملوں اور ٹینک کی گولہ باری سے کم از کم چھے بچوں سمیت 19 افراد ہلاک ہو گئے۔

ایجنسی کے ترجمان محمود بسال نے اے ایف پی کو بتایا، "غزہ کی پٹی میں آدھی رات اور آج صبح کے درمیان اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں تین قتلِ عام ہوئے جن میں 19 افراد ہلاک اور 40 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔" نیز علاقے کے جنوب میں رفح میں ٹینک کی گولہ باری بھی ہوئی۔

ان میں سے ایک حملے میں علاقے کے شمال میں غزہ شہر کے زیتون محلے میں ایک گھر نشانہ بنا جس میں تین بچوں سمیت سات افراد ہلاک اور 10 زخمی ہو گئے۔

جس خاندان کا گھر تباہ ہوا، اس کے ایک فرد عبداللہ شلدان نے بتایا، "ان لوگوں کا کیا قصور تھا؟ وہ اپنے گھروں میں سو رہے تھے - وہ عام شہری ہیں جن کا حماس یا مزاحمت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔"

اے ایف پی ٹی وی فوٹیج میں لوگوں کو اندھیرے میں ٹارچ اور موبائل فونز کی روشنی میں ملبے کی تلاشی لیتے ہوئے دکھایا گیا جب ایک کم عمر لڑکا شدت سے " بابا بابا" پکار رہا تھا۔

بسال نے بتایا کہ مرکزی جنوبی شہر خان یونس میں ایک اور حملے میں تین بچوں سمیت چھے افراد ہلاک اور 26 بے گھر افراد زخمی ہو گئے جو گھر کے قریب خیموں میں مقیم تھے۔

متأثرین میں سے ایک کی بہن امِ محمد ابو سبلہ نے اے ایف پی کو بتایا، میں فوری طور پر وہاں پہنچی اور تباہی اور لوگوں کو ملبے کے نیچے سے جسم کے اعضاء اٹھاتے دیکھا۔

62 سالہ بزرگ نے کہا، "ہماری پوری زندگی مصائب سے عبارت ہے۔ وہ ہم سب کو مار ڈالیں تاکہ ہم اس تکلیف سے نجات حاصل کر سکیں۔"

بسال نے بتایا کہ وسطی غزہ کی پٹی میں نصیرات میں ایک گھر پر ایک اور حملے میں چار افراد اور علاقے کی جنوبی سرحد کے ساتھ واقع رفح میں ٹینک کی گولہ باری سے دو نوجوان ہلاک ہو گئے۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق غزہ میں 13 ماہ سے زائد عرصے کی جنگ کے دوران کم از کم 44,056 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں