غزہ: ہسپتالوں کے لیے اگلے 48 گھنٹے انتہائی سنگین، ادویات اور ایندھن سب ختم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

غزہ کے بچے کھچے چند ہسپتالوں کے لیے ایک بار پھر ایندھن کی فراہمی کا مسئلہ سنگین تر ہو گیا ہے۔ ایندھن کی فراہمی پھر روک دیے جانے سے اگلے 48 گھنٹوں میں فیصلہ ہو جائے گا کہ یہ باقی بچ گئے ہسپتال بھی کام جاری رکھ سکیں گے یا نہیں۔

یہ فیصلہ عملاً نیتن ہاہو کے زیر قیادت اسرائیل نے کرنا ہے کہ وہ غزہ کے مسلسل محاصرہ زدہ ماحول میں بمباری سے بچ گئے چند ہسپتالوں کو بھی کام کرنے دینے لیے ایندھن فراہم ہونے دے گا یا نہیں۔ خیال رہے اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو بین الاقوامی فوجداری عدالت کو جنگی جرائم میں مطلوب ہیں۔

فوجداری عدالت نے نیتن یاہو اور ان کے سابق وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے جنگی جرائم کے سلسلے میں وارنٹ گرفتاری جمعرات کے روز جاری کیے ہیں۔ فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر نے وارنٹ گرفتاری کی درخواست ماہ مئی میں کی تھی۔

غزہ میں 23 لاکھ بے گھر فلسطینیوں کے علاوہ 104000 سے زائد زخمی شہری موجود ہیں۔ لیکن اسرائیل ان فلسطینی زخمیوں اور مریضوں کے علاج کے لیے بچ گئے چند ہسپتالوں کو بھی زیر محاصرہ رکھے ہوئے ہے۔ اسی لیے ایندھن کی فراہمی بھی ممکن نہیں رہی ہے۔

غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں کے ختم ہو رہے ایندھن کے بارے میں ایک ہنگامی نوعیت کا انتباہ جاری کیا ہے کہ اگلے 48 گھنٹوں میں ہسپتال ایندھن نہ ملنے کے باعث مکمل بند ہو سکتے ہیں۔

اس سلسلے میں غزہ میں قائم ایک فیلڈ ہسپتال کے ڈائریکٹر مروان الحمص نے ایک پریس کانفرنس بھی کی ہے کہ ہسپتال کے جنریٹرز اور آکسیجن سلنڈروں کو ورکنگ میں رکھنے کے ساتھ ساتھ طبی مشینری کو رواں رکھنے کے لیے اسی ایندھن سے کام لیا جاتا ہے۔کیونکہ بجلی کا نظام اسرائیلی بمباری سے مکمل تباہ ہوئے بہت عرصہ ہو چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا ہم نے اس سلسلے میں بین الاقوامی اداروں کو متوجہ کیا کہ وہ بین الاقوامی فوجداری کے حالیہ فیصلے پر عمل کرائیں تاکہ نسل کشی کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہو۔ ان کے بقول ہسپتالوں کا ایندھن اور ادویات کی فراہمی روکنا فلسطینیوں کی نسل کشی کے لیے اسرائیل کا آزمایا ہوا ہتھیار ہے۔

واضح رہے اکتوبر کے اواخر میں، وزارت صحت نے باضابطہ بتادیا تھا کہ شمالی غزہ میں اب صرف ایک ہسپتال کے علاوہ تمام ہسپتالوں کی طبی خدمات کا سلسلہ رک چکا ہے۔ کمال عدوان ہسپتال کے ڈائریکٹر حسام ابو صفیہ نے اس وقت کہا تھا کہ اسرائیلی حملے سے متاثرہ علاقے میں صرف جزوی طور پر کام کرنے والے واحد طبی ادارے کے پاس کوئی دوائی یا طبی سامان باقی نہیں بچا تھا۔

وزارت صحت کا نیا انتباہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے شمالی غزہ میں جزوی طور پر کام کرنے والے ہسپتالوں کے لیے شدید تشویش کا اظہار کرنے کے تین دن بعد سامنے آیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی ترجمان مارگریٹ ہیرس نے منگل کو ہی بتا دیا تھا کہ بیت لاھیہ کے کمال عدوان ہسپتال کے بارے میں خصوصی فکر مندی ہے۔ جہاں اسرائیل نے گزشتہ ماہ حملہ شروع کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں