آثار الغارات الإسرائيلية على منطقة البسطة في بيروت (رويترز)
بیروت کے علاقے البسطہ الفوقا پر بمباری، 12 افراد جاں بحق، 33 زخمی
لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ہفتے کی صبح اسرائیلی فورسز نے البسطہ الفوقا کے علاقے پر حملے کر کے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ بیروت کے لوگوں پر ایک ناقابل بیان رات گزری۔ دارالحکومت کے قلب سے ملبے کو ہٹانے کا کام جاری ہے۔
لبنانی شہری دفاع کے ایک ذریعے نے "العربیہ" کو بتایا کہ اب تک ملبے کے نیچے سے 12 متاثرین کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے کام جاری ہے۔
ذریعہ نے مزید بتایا کہ وہ لبنانی خاندان جو البسطہ الفوقا کے علاقے میں نشانہ بنائے گئے اب بھی ملبے کے نیچے پھنسے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی حملے سے نہ صرف مطلوبہ عمارت گر گئی بلکہ 5 سے زائد ہمسایہ عمارتیں بھی تباہ ہوئیں۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ملبہ ہٹانے کی کارروائیاں جاری ہیں تاہم متاثرین اور زخمیوں کی بازیابی میں مزید وقت لگے گا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
اسرائیلی طیاروں نے صبح کے وقت بیروت کے قلب میں واقع البسطہ الفوقا کے علاقے پر حملہ کیا اور ایک 8 منزلہ عمارت کو نشانہ بنایا۔ عمارت مکمل منہدم ہوگئی۔ اب تک 12 افراد جاں بحق اور 33 زخمی ہوگئے۔
العربیہ ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ حملے کا ہدف حزب اللہ رہنما محمد حیدر تھا۔ ابھی تک محمد حیدر کے حوالے سے معلومات واضح نہیں ہوئیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
واضح رہے چند دنوں میں اسرائیلی فورسز نے چوتھی مرتبہ بیروت پر حملہ کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے صہیونی فوج نے علاقے "مار الیاس" پر بمباری کی تھی۔ اس سے پہلے "راس النبع" کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں حزب اللہ کے میڈیا چیف محمد عفیف کو شہید کر دیا گیا۔ اسی طرح "ذقاق البلاط" کے علاقے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ دو ماہ سے زائد عرصے سے اسرائیل نے لبنان کے کئی علاقوں خاص طور پر بیروت کے جنوبی مضافات، جنوبی لبنان اور مشرق میں البقاع میں اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔