اقوام متحدہ کی طرف سے اظہار تشویش کیا گیا ہے کہ شام میں رہنے اور خوراک تک کی صورت حال سنگین تر ہے ۔ اس لیے لبنان میں حالیہ اسرائیلی بمباری کے بعد شام میں نقل مکانی کر جانے والے بہت سے لوگ بھی بھوکوں مرنے سے بچنے کے لیے لبنان واپسی کا سوچ رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ریلیف سے متعلق ادارے کی ترجمان نے شام میں صورت حال کی اس سنگینی پر اظہار تشویش جمعہ کے روز کیا ہے۔
ترجمان اقوام متحدہ کے مطابق لبنان سے چند ہفتوں میں نقل مکانی کرتے ہوئے شام بھاگنے والے کچھ خاندان یہاں کے حالات سے تنگ ہو کر واپس لبنان جانے لگے ہیں۔
ترجمان نے شام اور لبنان کی سرحد سے ویڈیو لنک پر جنیوا میں رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا ان کی تعداد زیادہ ہے یا کم ہمیں اس سے غرض نہیں ہمارے لیے انسانی تکلیف اور مسئلہ بھی انتہائی اہم ہے۔
یاد رہے اقوام متحدہ کے انسانی بحالی کے لیے قائم کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق ماہ ستمبر سے اب تک لبنان سے شام منتقل ہونے والے لبنانیوں کی تعداد 560000 ہو چکی ہے۔ جبکہ لبنانی حکام کا کہنا ہے یہ تعداد 610000 ہو چکی ہے۔
ترجمان کے مطابق 2017 سے 23 ستمبر 2024 کے درمیان لبنان سے 400000 لاکھ شامی واپس اپنے گھروں کو گئے تھے۔ لیکن اب لبنانی شام میں رہنے پر مجبور ہوئے۔