قوات تابعة لإدارة العمليات العسكرية الجديدة في سوريا - فرانس برس
شام : دیر الزور میں بشار حکومت کی باقیات کے ساتھ جھڑپیں جاری
شام میں جمعے کے روز دیر الزور کے دیہی علاقے میں المیادین میں مسلح جھڑپیں ہوئیں۔ ان میں ایک طرف عسکری کارروائیوں کی انتظامیہ کی فورس تھی جب کہ دوسری طرف سابق حکومت کے عناصر اور منشیات کے تاجر شریک تھے۔
دیر الزور میں المیادین کا علاقہ ان اہم ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں ایران کے زیر انتظام ملیشیائیں تعینات تھیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
حمص کی صورتحال
ادھر عسکری کارروائیوں کی انتظامیہ کے اعلان کے مطابق حمص کے دیہی علاقے میں بشار حکومت کے عناصر کے تعاقب کے لیے بڑی کمک بھیجی گئی ہے۔ العربیہ نیوز نے حمص کے مغربی دیہی علاقے میں سابق حکومت کے عناصر کے تعاقب کی کارروائیوں اور خفیہ جیلوں کی تلاش کا عمل اپنے کیمرے میں محفوظ کیا۔
العربیہ کی ٹیم کے داخل ہونے پر حمص کے دیہی علاقے میں زور دار دھماکا سنا گیا۔ حمص پولیس کے سربراہ کے مطابق یہ دھماکے سابق حکومت کے عناصر کی جانب سے کیے جاتے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکا عسکری مواد کے نتیجے میں ہوا۔ انھوں نے بتایا کہ یہاں واقع فوجی اڈے میں وار ہیڈز اور خطرنات کیمیائی مواد موجود ہے۔
ادھر دار الحکومت دمشق میں عسکری کارروائیوں کی انتظامیہ کے عناصر نے سڑکوں پر پریڈ کی۔ اس موقع پر مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد الامویین اسکوائر پر جمع ہو گئے۔
ادھر العربیہ کے نمائندے کے مطابق ساحلی شہر طرطوس میں دو روز تک بد امنی کے بعد زندگی معمول پر آ گئی ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
کشیدگی پر تشویش
دوسری جانب شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے گیر پیڈرسن نے سلامتی کونسل کے ایک بند اجلاس میں کہا کہ شام کے متعدد علاقوں میں کشیدگی باعث تشویش ہے۔ پیڈرسن نے "شام کی خود مختاری، وحدت اور سلامتی کی بحالی اور تمام پر تشدد کارروائیوں کے روک دیے جانے" کی ضرورت پر زور دیا۔
انھوں نے کہا کہ "سیاسی منتقلی کا عمل ... معتبر اور غیر فرقہ وارانہ حکومت، آئینی اصلاحات، شفاف انتخابات اور خواتین کی شرکت کی ضمانت کے ساتھ انجام پانا چاہیے"۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
شام۔۔۔۔ ایک مملکت
ادھر سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے کمانڈر مظلوم عبدی کا کہنا ہے کہ ان کی فورس نئی شامی فوج میں ضم ہونے کے لیے تیار ہے۔ تاہم یہ پیش رفت مذاکرات کے ذریعے ایک موزوں فارمولے پر اتفاق کے بعد ہو سکے گی۔
عبدی نے خبردار کیا کہ ترک فوج کے اکٹھا ہونے کا سلسلہ جاری رہنے کے سبب عین العرب شہر کو الم ناک بحران کا خطرہ ہے۔ ان کے مطابق ایس ڈی ایف نے انقرہ کو ہتھیاروں سے پاک زون کی تجویز دی تھی تاہم ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
سیاسی جانب ایک روسی عہدے دار نے "ٹاس" خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ شام کے نئے حکام ان سمجھوتوں پر عمل ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے جن کے تحت روس لاذقیہ اور طرطوس کے صوبوں میں فوجی اڈے استعمال کر رہا ہے۔