مداخلت کریں گے نہ شامی سکیورٹی سے چھیڑ چھاڑ کا حصہ بنیں گے: عراقی وزیر اعظم

ہتھیاروں کو ریاست تک محدود رکھنا حکومتی پروگرام کا حصہ ہے: شیاع السودانی کا ’’ العربیہ‘‘ کو انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السودانی نے کہا ہے کہ معزول صدر بشار الاسد کی حکومت نے عراق سے فوجی مداخلت کے لیے نہیں کہا تھا۔ العربیہ اور الحدث کو دیے گئے ایک انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ ماھر الاسد شامی حکومت کے خاتمے کے بعد عراق میں داخل نہیں ہوئے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسلحے یا مسلح گروہوں کے شام میں داخل ہونے کا خدشہ ہے؟ تو السودانی نے کہا کہ ان خدشات کا کوئی اثر نہیں ہوگا، ہم شام کو مستحکم کرنے اور حمایت کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے سرحدوں کو کنٹرول کرنے کے لیے شام کے ساتھ ہم آہنگی پر زور دیا۔

شام کے معاملات میں عدم مداخلت

شیاع سوڈانی نے کہا کہ عراقی حکومت اور سیاسی قوتوں نے شام کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ہم شام کی سلامتی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا حصہ نہیں بنیں گے۔ حالات شام کے نجی دورے کے امکان کا تعین کریں گے۔ انہوں نے شامیوں کی مرضی کے احترام اور ایک جامع سیاسی عمل کی خواہش پر بھی زور دیا۔ عراقی وزیر اعظم نے العربیہ اور الحدث کو مزید بتایا کہ ہم نے شام کی انتظامیہ کو موجودہ صورتحال کے بارے میں اپنے ویژن سے آگاہ کردیا ہے۔ ہم نے کہا ہے کہ شام کی جیلوں میں کوئی بھی خرابی ہمیں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے پر مجبور کرے گی۔

اس تناظر میں عراق کے وزیراعظم سوڈانی نے العربیہ اور الحدث کو انٹرویو میں کہا کہ عراق کو اسرائیل کی دھمکیوں کا مقصد تنازعات کے میدان کو بڑھانا ہے۔ عراق کسی فریق کو تنازعات اور جنگوں میں ملوث ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔ جنگ اور امن کا فیصلہ ہمارے ہاتھ میں باقی رہے گا۔ انہوں نے اپنے ملک کی طرف سے غزہ اور لبنان میں اسرائیل کی طرف سے جاری تباہی کی جنگ کو بھی مسترد کردیا۔

ہتھیار ریاست تک محدود

داخلی امور کے حوالے سے شیاع سوڈانی نے کہا کہ ریاست کو ہتھیار فراہم کرنا حکومتی پروگرام کا حصہ ہے اور ہم اس پر عمل درآمد کے لیے سیاسی قوتوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ہم ہتھیاروں کو ریاست تک محدود کرنے کے لیے ایک واضح راستے اور ذمہ دارانہ قومی مکالمے پر کام کر رہے ہیں۔

السودانی نے کہا ہم ایرانی- امریکی دباؤ سے اس وقت چھٹکارا حاصل کریں گے جب دوسرے بھی تہران اور واشنگٹن کے فوبیا سے چھٹکارا حاصل کریں گے۔ امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات سٹریٹجک نوعیت کے ہیں اور واضح شراکت داری پر مبنی ہیں۔ امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کی قیادت کی ہے۔ ہم نے اپنے بھائیوں اور دوستوں کی حمایت سے داعش کو شکست دی۔

اتحادی افواج میں اضافہ نہیں ہوا

’’ العربیہ‘‘ کو انٹرویو میں السودانی نے مزید کہا ہمارے واشنگٹن کے ساتھ ادارہ جاتی تعلقات ہیں اور خیالات میں مماثلت ہے۔ ہم نے بین الاقوامی اتحاد کے ساتھ پیشہ ورانہ بات چیت کی۔ اس بات چیت میں داعش اور سکیورٹی فورسز کی صلاحیتوں کا اندازہ لگایا گیا۔

انہوں نے نشاندہی کی ہے کہ ایک مخصوص ٹائم ٹیبل کے مطابق بین الاقوامی اتحاد کی موجودگی کو ختم کرنے کے بارے میں ایک منظم مطالعہ کیا گیا ہے، عراق میں بین الاقوامی اتحادی افواج کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے اور جو افواہیں ہیں وہ درست نہیں ہیں۔

سعودی عرب سے مثبت تعلقات

السودانی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ ہمارے تعلقات مثبت ہیں اور ہمارے مملکت کے آخری دورے میں شام کی صورتحال اور اس کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں