الشرع 2
جرمن وزیر خارجہ انالینا بیربوک نے دمشق میں شام کی نئی انتظامیہ کے رہنما احمد الشرع کے ساتھ ملاقات کے بعد گفتگو میں کہا ہے کہ ریاست کی تعمیر نو میں تمام شامی اجزا کے حصہ لینے کی ضرورت ہے۔
جرمن وزیر نے ایک پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ انہوں نے احمد الشرع کو آگاہ کیا ہے کہ یورپ نئے اسلامی ڈھانچے کو فنڈز نہیں دے گا۔
انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ شام میں کردوں کو قابل اعتماد سکیورٹی ضمانتوں کی ضرورت ہے۔ شام پر سے پابندیاں ہٹانے پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی عمل پر منحصر ہے۔
کسی یورپی وزیر کے دمشق کے پہلے دورے میں فرانس کے وزیر خارجہ جین نول بیروٹ اور ان کی جرمن ہم منصب اینالینا بیربوک نے شام کی نئی انتظامیہ کے رہنما احمد الشرع سے ملاقات کی۔ مغربی حکام کے ساتھ اس سطح پر ہونے والی پہلی ملاقات کےموقع پر احمد الشرع نے دونوں وزرا کا دمشق کے صدارتی محل میں استقبال کیا۔ دونوں یورپی مہمانوں کے ساتھ ان کے سفارتی وفود بھی تھے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
اس سے قبل جرمن وزیر نے دمشق اور یورپی ممالک کے درمیان مستقبل میں تعلقات استوار کرنے کے لیے الفاظ کی بجائے عمل کو دیکھنے کی اہمیت پر زور دیا تھا۔
تمام شامیوں کی شرکت
جرمنی وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کا ملک شامیوں کے لیے مدد کا ہاتھ بڑھاتا ہے۔ یہ واضح پیغام دیتا ہے کہ ایک نئی شروعات اسی وقت ہو سکتی ہے جب تمام شامی، چاہے ان کا تعلق کسی بھی نسل اور مذہب سے ہو، ملک میں سیاسی عمل میں حصہ لیں۔
یورپی یونین نے قبل ازیں دمشق پر زور دیا تھا کہ وہ اپنی نئی انتظامیہ کے ساتھ ایک جامع حکومت تشکیل دے جو شامی معاشرے کے تمام طبقات کی نمائندگی کرے اور خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کا بھی تحفظ کرے۔ یونین نے یہ عندیہ بھی دیا کہ پابندیاں اٹھانے کا معاملہ ان اقدامات سے متعلق ہے جو وہ مستقبل میں شام کی طرف سے دیکھیں گے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
واضح رہے ھیئہ تحریر الشام کے رہنما احمد الشرع، جو پہلے ابو محمد الجولانی کے نام سے معروف تھے، نے ایک سے زیادہ مرتبہ اس بات پر زور دیا ہے کہ نئی انتظامیہ عرب اور مغربی ملکوں سمیت سب کے ساتھ رابطے کے پل بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم یورپی حلقوں کے اب بھی کچھ خدشات موجود ہیں۔ ان حلقوں نے احمد الشرع اور ان کے گروپ کے تاریخ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔