ملک کے تمام حلقوں کے ساتھ حکومت قائم کی جائے گی: شام
شام کے وزیرِ خارجہ کا دورۂ سعودی عرب، سعودی وزیرِ دفاع سے ملاقات
شام کے وزیرِ خارجہ نے سعودی عرب کے حکام کو بتایا ہے کہ دمشق میں نئی قیادت شامی معاشرے کے تمام حصوں پر مشتمل ایک حکومت قائم کرنا چاہتی ہے۔
وزیر اسد حسن الشیبانی کا دورۂ سعودیہ شام کی نئی انتظامیہ کے کسی رکن کی جانب سے اولین غیر ملکی دورہ ہے۔ اس دوران مغربی اور علاقائی طاقتیں یہ سمجھنے کے لیے اشارے تلاش کر رہی ہیں کہ آیا شام سخت اسلامی حکومت نافذ کرے گا یا حکومت میں تمام متعلقین کی شمولیت ہو گی۔
الشیبانی اور شام کے وزیرِ دفاع نے جمعرات کو ریاض میں سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات کی۔
الشیبانی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، "اپنے دورے کے ذریعے ہم نے شراکت داری اور کارکردگی پر مبنی حکومت کے قیام کے قومی نظریئے سے آگاہ کیا جس میں شام کے تمام اجزاء شامل ہوں اور ہم اقتصادی ترقی کا ایک منصوبہ شروع کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں جو سرمایہ کاری کے لیے راہیں کھولے، تزویری شراکت داری قائم کرے اور حالاتِ زندگی کو بہتر بنائے۔"
ایچ ٹی ایس کی قیادت میں انتہا پسند حزبِ اختلاف نے عرب ممالک اور عالمی برادری کو یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ وہ تمام شامیوں کی جانب سے حکومت کریں گے اور اسلامی انقلاب برآمد نہیں کریں گے۔
ایچ ٹی ایس القاعدہ کی شامی شاخ تھی۔ پھر اس نے 2016 میں القاعدہ سے تعلقات منقطع کر لیے۔
سعودی عرب نے شام کی خانہ جنگی کے آغاز پر بشار الاسد کے خلاف لڑنے والی حزبِ اختلاف کی قوتوں کی حمایت کی تھی۔
حال ہی میں سعودی دارالحکومت ریاض اسد حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی راہ پر گامزن ہوا تھا جس سے شام کے لیے 2023 میں عرب لیگ میں واپسی کی راہ ہموار ہوئی تھی۔ یہ شام میں ایرانی اثر و رسوخ کو کم اور میتھیم فیٹامین کیپٹاگون منشیات کی ترسیل روکنے کی کوشش تھی۔
حکومت کے ایک قریبی ذریعے نے رائٹرز کو بتایا، سعودی مملکت شام میں امن کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور استحکام کو فروغ دینا اس کی اولین ترجیح ہے۔
ذریعے نے مزید کہا، "اس نازک موڑ پر ہماری توجہ شام کے لوگوں کو ضروری انسانی امداد پہنچانے پر مرکوز ہے اور ہم علاقائی شراکت داروں کے تعاون سے وسیع امداد فراہم کرنے کے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔"