People carry placards during a protest against the government and to show support for the hostages who were kidnapped during the deadly October 7, 2023 attack, amid the ongoing conflict in Gaza between Israel and Hamas, in Tel Aviv, Israel January 11, 2025. REUTERS/Kai Pfaffenbach
غزہ سے اسیروں کے استقبال کی تیاری کی جائے: نیتن یاہو کا حتمی اعلان
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے آج جمعے کے روز ایک اعلان میں بتایا گیا ہے کہ "غزہ میں اسرائیلیوں کی رہائی کے لیے معاہدہ طے پا گیا ہے"۔
دفتر سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مذاکراتی ٹیم نے نیتن یاہو کو آگاہ کیا ہے کہ یرغمالیوں کو آزاد کرنے کا معاہدہ ہو گیا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی اسیروں کے استقبال کی تیاری کی جائے جو سات اکتوبر 2023 سے غزہ کی پٹی میں یرغمال ہیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
یرغمال اسیروں کے گھر والوں کو معاہدہ دستخط ہونے کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا۔
اسرائیلی سیکورٹی کابینہ کا اجلاس آج جمعے کے روز ہو رہا ہے جس کے بعد سمجھوتے کی توثیق کے لیے حکومت کا اجلاس ہو گا۔
با خبر اسرائیلی ذرائع نے بتایا ہے کہ اسرائیل کا مذاکراتی وفد قطر کے دار الحکومت سے تل ابیب کے لیے روانہ ہو گیا۔ معاہدے پر ووٹنگ سے قبل وزراء اس کی تفصیلات جانیں گے۔ یہ بات اسرائیلی نشریاتی ادارے نے بتائی۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو
نیتن یاہو نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کی حکومت جنگ کے تمام مقاصد کے حصول اور تمام اسیروں کی واپسی یقینی بنانے پر کاربند ہے۔ ان کا اشارہ دائیں بازو کے بعض شدت پسند وزراء کو مطمئن کرنے کی جانب تھا جو مستعفی ہونے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ ان میں سر فہرست قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گوئر اور وزیر مالیات بتسلیل سموٹرچ ہیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
اگر وساطت کار مداخلت نہ کرتے تو مذکورہ معاہدہ گذشتہ گھنٹوں کے دوران میں ختم ہونے کے قریب تھا۔ بالخصوص نیتن یاہو کی جانب سے کل جمعرات کے روز حماس پر نئے مطالبات بڑھانے کے الزام کے بعد جب کہ تنظیم نے اس الزام کی یکسر تردید کر دی۔
بعد ازاں العربیہ کے ذرائع نے بتایا کہ معاہدے میں حتمی ترامیم کر دی گئیں جس کے بعد تمام فریقوں نے اس پر دستخط کر دیے۔
تین مراحل
یاد رہے کہ غزہ معاہدہ اتوار سے نافذ العمل ہو گا اور اس پر عمل درآمد 3 مراحل میں ہو گا۔
پہلا مرحلہ چھ ہفتوں تک جاری رہے گا۔ اس کے دوران میں غزہ سے اسرائیلی فوج کا بتدریج انخلا ہو گا۔ اسی طرح 33 اسرائیلیوں کو آزاد کیا جائے گا جن میں خواتین، بچے اور پچاس سال سے زیادہ کے افراد شامل ہوں گے۔ ان کے علاوہ دو امریکی کیتھ سیگل اور سیجوے ڈیکل چن بھی ہیں۔
دوسرے مرحلے میں بقیہ تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی، مستقل فائر بندی، غزہ سے اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا اور اس کے مقابل ایک ہزار سے زیادہ فلسیطنی قیدیوں کی رہائی متوقع ہے۔
تیسرے مرحلے میں تمام بقیہ میتیں واپس کی جائیں گی اور مصر، قطر اور امریکا کی نگرانی میں غزہ کی تعمیر نو شروع ہو گی۔