رکاوٹیں موجود، سینئر فلسطینی قیدیوں کے حوالے سے سفارشات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان بدھ کو کیا گیا تاہم اس کے پایہ تکمیل تک پہنچنے کے حوالے سے خدشات موجود تھے، اسی دوران جمعرات کو اس معاہدے پر عمل کے حوالے سے کچھ رکاوٹیں سامنے آ گئیں۔ اسرائیلی اعلی سکیورٹی ذرائع نے اپنے سیاسی ہم منصب کو ان سینئر فلسطینی قیدیوں کے بارے میں سفارش کی ہے جن کی رہائی کا مطالبہ حماس نے کر رکھا ہے۔

سفارش میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بہتر ہے کہ ان سینئر افراد کو غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں منتقل کیا جائے تاکہ انہیں اسرائیلی کنٹرول میں رکھا جا سکے اور انہیں بیرون ملک سے حماس کی صلاحیتوں کی تعمیر نو میں کردار ادا کرنے سے روکا جا سکے۔ اسرائیلی سکیوری حکام نے یہ بھی کہا کہ یہ قدم ان فلسطینی قیدیوں کو بیرون ملک جلاوطن کرنے کے بجائے گرفتار کرنے اور قتل کرنے کی اجازت دے دے گا۔ بیرون ملک میں یہ فلسطینی رہنما اسرائیلی سکیورٹی کی قریبی نگرانی سے دور رہ کر کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

العربیہ یا الحدث کے نامہ نگار نے یہ بھی بتایا ہے کہ اسرائیل نے حماس کی طرف سے درخواست کردہ دو مجرموں کو رہا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اسرائیلی مذاکراتی وفد کے قریبی ذرائع نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی طرف سے وزیر خزانہ سموٹریچ کے مطالبات پر کسی بھی ردعمل سے معاہدے کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد کے امکان کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔

یہ پیش رفت سموٹریچ کی حکومت سے علیحدگی کی دھمکی کے بعد ہوئی ہے۔ اپنی دھمکی سموٹریچ نے کہا کہ اگر نیتن یاہو قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد کے بعد غزہ میں لڑائی میں واپس نہ آئے تو وہ حکومت سے علیحدہ ہوجائیں گے۔

فلاڈیلفیا کوریڈور

ایک نیا مخمصہ بھی ابھر کر سامنے آیا ہے۔ ایک سینئر اسرائیلی سیاسی ذریعے نے جمعرات کو کہا کہ اسرائیل 42 دن کے دوران فلاڈیلفیا محور سے پیچھے نہیں ہٹے گا بلکہ محور کے ہر مرحلے پر موجود رہے گا۔ اس معاہدے جس میں اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا پر زور دیا گیا ہے اس میں پہلے مرحلے کے 42 دن میں فلاڈیلفیا سے اسرائیلی فوج کے نکلنے کی تصریح نہیں کی گئی ہے۔

متعلقہ سیاق و سباق میں اس ڈیل پر ووٹنگ کے لیے منی سیکیورٹی کابینہ کا آئندہ اجلاس آج جمعہ کو ہوگا۔ یہ تمام پیش رفت غزہ میں جنگ بندی کے نازک معاہدے کے خاتمے کے خدشات کے درمیان ہوئی ہے۔ یاد رہے امریکی، مصری اور قطری سرپرستی میں کئی مہینوں کے طویل مذاکرات کے بعد بدھ 15 جنوری کو جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس مجوزہ جنگ بندی میں تین مراحل شامل ہیں۔ اس میں حماس اور اسرائیلی فریق کے درمیان قیدیوں کے تبادلے اور دشمنی کے خاتمے کی شرط رکھی گئی ہے۔ اس میں اسرائیل اور غزہ کی سرحد کے ساتھ 700 میٹر چوڑا بفر زون کے قیام کا بھی کہا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں