من مدينة جنين بالضفة الغربية - رويترز
غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے چھٹے روز جہاں غزہ پٹی کے شمالی علاقے کے بے گھر افراد اپنے گھروں کے ملبے کی طرف واپسی کی تیاری کر رہے ہیں وہاں اسرائیل نے مغربی کنارے کے شہر جنین میں سیکڑوں فلسطینیوں کو ان کے گھر خالی کرنے پر مجبور کر دیا۔
تازہ صورت حال کے مطابق اسرائیل نے جنین پناہ گزین کیمپ کے گرد گھیرا تنگ کر دیا ہے۔ جنین شہر میں داخل ہونے کے چاروں راستے بند کر دیے گئے ہیں اور آمد و رفت روکنے کے لیے ریت کی رکاوٹیں قائم کر دی گئی ہیں۔
فلسطینی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے جنین کے جنوب میں قباطیا قصبے پر دھاوا بول دیا اور جنین کے شمال مغرب میں واقع قصبے یامون میں بنیادی سہولیات کا ڈھانچا تباہ کر دیا۔ بجلی کی فراہمی اور ایندھن کی ترسیل کا سلسلہ منقطع ہونے کے سبب مریضوں اور طبی عملے کو مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
فلسطینی طبی ذرائع کے مطابق جنین میں آپریشن شروع ہونے کے بعد سے اب تک 13 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جن مین ایک بچہ شامل ہے۔ ان کے علاوہ 50 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔
اس سے قبل اسرائیلی فوج نے جنین اور اس کے پناہ گزین کیمپ میں اپنا آپریشن جاری رکھا۔ اس دوران میں جنین کیمپ کے جنوب مغرب میں الدمج اور الحواشین کے محلوں میں جھڑپیں ہوئیں جب کہ اطراف کے علاقوں سے لوگوں کے کوچ کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔
غزہ ۔
فلسطینی ذمے داران کے مطابق سیکڑوں افراد جنین سے کوچ کر چکے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے مقامی رہائشیوں کو گھروں کو خالی کرنے کی دھمکیاں دی تھیں جن کے بعد لوگ کوچ کرنے پر مجبور ہو گئے۔
جنین میں آپریشن کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں اپنے عسکری اقدامات سخت کر دیے اور درجنوں چیک پوسٹیں قائم کر دی گئی ہیں۔