مغربی کنارا : اسرائیلی فوج کے سبب سیکڑوں فلسطینیوں کا جنین سے کوچ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مغربی کنارے کے شمالی شہر جنین میں مسلح گروپوں کے خلاف اسرائیلی فوج کے وسیع آپریشن کے تیسرے روز سیکڑوں فلسطینی پناہ گزین کیمپ سے کوچ کر گئے۔ یہ بات ایک فلسطینی ذمے دار نے بتائی۔ آپریشن میں اب تک کم از کم 12 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان فائر بندی معاہدہ نافذ العمل ہونے کے دو روز بعد منگل کو اسرائیلی فوج نے جنین میں "آئرن فینس" کے نام سے فوجی آپریشن شروع کر دیا۔

آپریشن میں لڑاکا طیاروں، بکتر بند گاڑیوں اور بلڈوزروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

جنین کے گورنر کمال ابو الرب کے مطابق اسرائیلی فوج نے لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے کیمپ خالی کرنے کی دھمکیاں دی تھیں جس کے بعد سیکڑوں رہائشی افراد اپنے گھروں کو چھوڑ کر چلے گئے۔

تاہم اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسے جنین کیمپ کو آبادی سے خالی کرانے کے حوالے سے اب تک کسی "حکم" کا علم نہیں ہے۔

اسرائیلی فوج کے سربراہ ہرزی ہیلوی کا کہنا ہے کہ "ہمیں اس بات کی تصدیق ہوئی تھی کہ جنین کیمپ ایسے عناصر کا گڑھ بن چکا ہے جو حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں یا پھر حملے کرنے کے بعد وہاں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ اس لیے طاقت کے زور پر وہاں داخل ہونے کا فیصلہ درست ہے"۔

اسرائیلی فوج نے جمعرات کے روز بتایا کہ اس نے علی الصبح جنین کے نواح میں فائرنگ کے تبادلے میں دو مسلح فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا۔ ان دونوں پر جنوری میں ایک حملے میں تین اسرائیلیوں کے قتل کا الزام تھا۔ یہ دونوں افراد برقین گاؤں میں ایک گھر میں روپوش تھے۔

ادھر جنین کے گورنر ابو الرب کا کہنا ہے کہ "صورت حال نہایت پیچیدہ ہے"۔ انھوں نے مزید بتایا کہ اسرائیلی فوج نے جنین کیمپ اور جنین سرکاری ہسپتال آنے والے تمام راستوں کو تباہ کر دیا ہے۔

سات اکتوبر 2023 کو غزہ کی پٹی میں حماس کے ساتھ جنگ چھڑنے کے بعد سے اسرائیل نے مغربی کنارے کے شمالی علاقوں میں بھی اپنے حملوں کا سلسلہ تیز کر دیا۔

اس کے بعد سے اب تک اسرائیلی فوج اور یہودی آباد کار مغربی کنارے میں کم از کم 848 فلسطینیوں کو ہلاک کر چکی ہے۔ یہ بات رام اللہ میں فلسطینی وزارت صحت نے بتائی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں