جنوبی لبنان کے گاؤں کفر کلا کے قریب برج الملوک میں جمع شدہ مقامی لوگ حزب اللہ کے پرچم اٹھائے ہوئے ہیں۔ 26 جنوری 2025 کو یہاں اسرائیلی افواج انخلاء کی ڈیڈ لائن گذر جانے کے بعد بھی موجود ہیں جبکہ رہائشی سرحدی علاقے میں اپنے گھروں کو واپس جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ (رائٹرز)

جنوبی لبنان کی سرحد پر کشیدگی، اسرائیل کے ہاتھوں 22 افراد ہلاک

واپس جانے کی کوشش کرنے والے رہائشیوں پر اسرائیلی حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی وزارتِ صحت نے کہا کہ اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان میں گھروں کو واپس جانے کی کوشش کرنے والے 22 افراد کو ہلاک اور کم از کم 124 کو زخمی کر دیا جہاں اسرائیلی افواج اتوار کو انخلاء کی ڈیڈ لائن گذرنے کے بعد موجود تھیں۔

اسرائیل نے اس ارادے کا اظہار کیا ہے کہ وہ اتوار کی ڈیڈ لائن کے بعد بھی اپنے فوجیوں کو جنوب میں رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ ڈیڈ لائن امریکی ثالثی میں حزب اللہ کے ساتھ گذشتہ سال کی جنگ کے تحت دی گئی تھی۔ ہفتے کے روز اسرائیل نے رہائشیوں کو اگلی اطلاع تک واپس نہ آنے کا حکم دیا۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ لبنانی ریاست نے شرائط مکمل طور پر نافذ نہیں کیں جبکہ لبنان کی امریکی حمایت یافتہ فوج نے ہفتے کے روز اسرائیل پر انخلاء میں لیت و لعل کا الزام لگایا۔

حزب اللہ کے المنار ٹیلی ویژن پر جنوب میں کئی مقامات پر رہائشیوں کو اسرائیلی احکامات کی خلاف ورزی کرتے اور دیہاتوں کی طرف بڑھتے ہوئے دکھایا گیا۔ ان میں سے بعض افراد کے پاس گروپ کا پرچم اور جنگ میں جاں بحق ہونے والے حزب اللہ کے مزاحمت کاروں کی تصاویر تھیں۔

لبنانی وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ ایک شخص حولہ گاؤں میں، دوسرا اطرون میں اور تیسرا بلیدہ میں ہلاک ہوا جسے اس نے شہریوں پر اسرائیلی حملوں کا نتیجہ قرار دیا جب وہ اپنے زیرِ قبضہ قصبات میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

اسرائیلی فوج نے اطلاع کردہ ہلاکتوں پر کوئی فوری تبصرہ نہیں کیا۔

ایک اسرائیلی فوجی ترجمان نے ایکس پر ایک پوسٹ میں جنوبی لبنان کے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے حزب اللہ پر "صورتِ حال میں شدت پیدا کرنے" کی کوشش کا الزام لگایا اور کہا کہ اسرائیلی فوج "مستقبل قریب میں" انہیں ان جگہوں کے بارے میں اطلاع کر دے گی جہاں وہ واپس جا سکتے ہیں۔

جنگ کے دوران اسرائیل کے ہاتھوں بری طرح کمزور ہو جانے والی حزب اللہ نے اسرائیل کے انخلاء کو یقینی بنانے کی ذمہ داری لبنانی ریاست پر عائد کی ہے اور اسرائیل کی جانب سے علاقے سے بروقت دستبرداری میں ناکامی کو معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

حزب اللہ کے قانون ساز حسن فضل اللہ نے گروپ سے منسلک المنار ٹیلی ویژن پر کہا، "ہم اپنی سرزمین پر ہیں اور دشمن وہ ہے جس نے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ اس لحاظ سے لوگ وہ ہیں جو اپنے ہاتھوں اور خون سے اپنی سرزمین کو آزاد کروا رہے ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا، "ہم چاہتے ہیں کہ ریاست اپنا کردار ادا کرے۔"

وائٹ ہاؤس نے جمعہ کو کہا کہ ایک مختصر، عارضی جنگ بندی میں توسیع کی فوری ضرورت تھی۔

نو جنوری کو پارلیمنٹ کی جانب سے ریاست کا سربراہ منتخب ہونے والے لبنانی صدر اور امریکہ کی حمایت یافتہ لبنانی فوج کے سربراہ جوزف عون نے جنوب کے لوگوں سے درخواست کی کہ وہ خود ضبطی اور تحمل کے ساتھ ساتھ لبنانی فوج پر اعتماد کا مظاہرہ کریں۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا، "لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور میں آپ کے حقوق اور وقار کو یقینی بنانے کے لیے اعلیٰ ترین سطح پر اس مسئلے کی پیروی کر رہا ہوں۔"

اسرائیل نے یہ نہیں بتایا ہے کہ اس کی افواج کب تک جنوب میں موجود رہیں گی جس کے بارے میں اس نے کہا ہے کہ وہاں وہ حزب اللہ کے ہتھیاروں پر قبضہ اور اس کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہی ہے۔

حزب اللہ-اسرائیل تنازعہ غزہ جنگ کے متوازی طور پر لڑا گیا تھا۔ اور حزب اللہ کے خلاف ایک بڑے اسرائیلی حملے کے وقت یہ عروج پر تھا۔ حملے میں لبنان میں دس لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہو گئے اور عسکریت پسند گروپ بری طرح کمزور ہو گیا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں