سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ

شاہ اردن اور سعودی ولی عہد کا غزہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال

شاہ اردن نے آباد کاری کے اقدامات کو روکنے اور غزہ میں زمینوں کو ضم کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرنے کی ضرورت پر زور دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کی شاہی عدالت نے کہا ہے کہ شاہ عبداللہ دوم نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ فون کال میں خطے کی پیش رفت خاص طور پر غزہ کی خطرناک صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

دریں اثنا شاہ عبداللہ دوم نے آبادکاری کے اقدامات کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کر دیا۔ سعودی ولی عہد سے رابطہ کرنے کے تناظر میں شاہ عبداللہ دوم نے فلسطینی عوام کی حمایت کے لیے عرب اور بین الاقوامی کوششوں کو تیز کرنے پر زور دیا تاکہ فلسطینیوں کے مکمل جائز حقوق حاصل کیے جا سکیں اور غزہ میں استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

سعودی خبر رساں ایجنسی نے کہا ہے کہ اردنی بادشاہ اور سعودی ولی عہد کے درمیان ہونے والے رابطے میں علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور تازہ ترین واقعات اور سلامتی اور استحکام کے حصول کے لیے کی جانے والی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسی تناظر میں کال کا وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات سے مطابقت رکھتا ہے جس نے واضح تنازعہ کو جنم دیا جب انہوں نے امریکہ کے غزہ کی پٹی کو کنٹرول کرنے اور اسے اقتصادی طور پر ترقی دینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ ٹرمپ کے ان بیانات کو عرب اور بین الاقوامی سطح پر بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

فلسطین سے متعلق ہمارا موقف اٹل ہے: سعودی عرب

سعودی عرب نے فلسطینیوں کی نقل مکانی اور بعض عرب ممالک کی منظوری سے فلسطینی ریاست کے قیام میں ناکامی کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کے بعد اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بارے میں مملکت کا موقف مضبوط، مستحکم اور غیر متزلزل ہے۔ سعودی عرب نے زور دیا ہےکہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں ہو سکتے.

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں