غزہ کے لیے امداد کی فراہمی میں اضافہ ہوا ہے تاہم اب بھی ناکافی ہے : اقوام متحدہ
اقوام متحدہ کے ذمے داران نے آج منگل کے روز بتایا ہے کہ 19 جنوری کو فائر بندی معاہدے کے نفاذ کے بعد سے غزہ کی پٹی میں امدادی سامان کے داخلے میں بڑی حد تک اضافہ ہوا ہے جس میں خیمے جیسی چیزیں بھی شامل ہیں جن پر اس سے پہلے اسرائیلی پابندیاں عائد تھیں۔
اس سے قبل حماس تنظیم نے کل پیر کے روز کہا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ معاہدے کی شقوں کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ ان خلاف ورزیوں میں غزہ میں انسانی امداد کا داخلہ روکنا شامل ہے۔ اس امداد میں 60 ہزار متحرک گھر، 2 لاکھ خیمے ، ملبہ اٹھانے والی بھاری مشینری اور ایندھن شامل ہے۔
اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے انسانی امور کے دفتر کے ترجمان ینس لائرکہ نے جنیوا میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ "فائر بندی کے عرصے کے دوران میں ہم انسانی خدمات کی کارروائیوں کا دائرہ بڑی حد تک وسیع کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، اس میں غذا، طبی امداد اور ٹھکانے وغیرہ شامل ہیں"۔
فلسطینیوں نے اربوں ڈالر کی امداد کے حصول کے لیے اپیلیں کی ہیں تا کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی آپریشن کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کو ٹھکانا فراہم کرنے کے لیے یونٹوں کا انتطام کیا جا سکے۔
امدادی سامان کے داخلے کی نگرانی کرنے والے اسرائیلی فوج کے مقررہ یونٹ کے بیان کے مطابق "فائر بندی نافذ ہونے کے بعد سے ایک لاکھ سے زیادہ خیمے غزہ کی پٹی میں داخل ہو چکے ہیں"۔
دوسری جانب انسانی امور سے متعلق اقوام متحدہ کے دفتر کی ایک عہدے دار ایڈیم ووسورنو کے مطابق اگرچہ فائر بندی کے بعد سے امداد کی فراہمی بہتری ہوئی ہے تاہم زمینی ضروریات کے اعتبار سے یہ کافی نہیں۔
جنیوا میں مقیم سفارت کاروں کے سامنے خطاب کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ "اس وقت غزہ مکمل طور پر تباہ حال ہے۔ وہاں بنیادی ڈھانچا موجود نہیں۔ ہم اپنی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ امدادی ٹرک سمندر میں ایک قطے سے زیادہ نہیں"۔