غزہ: اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے اسرائیل معاہدے کی پابندی کرے ِ حماس کا ٹرمپ کو جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس اور اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کی فریق حماس نے امریکی صدر ٹرمپ کی ایک بار پھر اسرائیلیوں کی رہائی وگرنہ غزہ کے لیے جہنم کا دروازہ کھول دینے کی دھمکی کے جواب میں حماس نے کہا ہے 'اسرائیلی قیدیوں کی رہائی اسی صورت ہو سکتی ہے کہ جنگ بندی معاہدے کی اسرائیل بھی پابندی کرے۔ 'حماس کے ایک ذمہ دار نے امریکی صدر کو یہ جواب منگل کے روز دیا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ جو اس سے پہلے بھی مشرق وسطیٰ کے لیے جہنمی دروازہ کھولنے کی دھمکی دے چکے ہیں ایک مرتبہ پھر انہوں نے اسی جہنم کے دروازوں کے کھول دینے کی بات پیر کے روز کی تھی۔ تاہم حماس نے اس دھمکی کومنگل کے روز مسترد کیا ہے۔

واضح رہے غزہ میں اسرائیلی جنگ روکنے اور اسرائیلی قیدیوں کی غزہ سے رہائی کے لیے جنگ بندی کا اطلاق 19 جنوری سے شروع ہوا تھا ۔ لیکن اسرائیل کی طرف سے اس جنگ بندی کے آغاز سے بھی پہلے دوبارہ جنگ شروع کرنے کی دھمکیاں شروع ہو گئی تھیَ ۔ جبکہ بعد ازاں دونوں طرف سے ایک دوسرے پر بھی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا جاتا رہا۔

ایک روز قبل پیرکو حماس نے اسرائیل پر جنگ بندی معاہدےکی خلاف ورزیوں کا الزام لگاتے ہوئے ہفتے کے روز 15 فروری کو قیدیوں کی اگلی کھیپ کی متوقع رہائی کو روکنے کا اعلان کر دیا ۔ جس پر ٹرمپ نے حماس کو سخت دھمکی دی ہے۔

اس سے قبل جوبائیڈن انتطامیہ غزہ جنگ میں اسرائیل کی تمام تر اور ہر طرح کی مدد کے باوجود بظاہر حماس کے خلاف فرنٹ پر ایک فریق کے طور پر آنے کا تاثر نہیں دیتا تھا۔ لیکن صدر ٹرمپ اس چیز کی پروا کیے بغیر کھل کر سامنے آنے کے تاثر کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے دھمکی دی ہے کہ ہفتے کے روز دوپہر تک تمام باقی اسرائیلی قیدیوں کو حماس نے رہا نہ کیا تو جہنم کا دروازہ کھل جائے گا۔

دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی ہم اپنی آخری اسرائیلی قیدی کی گھر واپسی کے لیے پر عزم ہیں۔ اسرائیلی عوام اور غزہ میں قیدیوں کے اہل خانہ کا بھی اسرائیلی حکومت سے مطالبہ ہے کہ جنگ بندی کو جاری رکھا جائے اور تمام قیدیوں کو واپس لایا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں