This handout picture released by the Syrian Presidency shows Syria's interim leader Ahmed al-Sharaa (C) meeting with members of the committee to draft a constitutional declaration for the country's transition after the overthrow of longtime ruler Bashar al-Assad, in Damascus on March 2, 2025. The new authorities are focused on rebuilding Syria and its institutions after Assad's removal on December 8, ending more than half a century of his family's iron-fisted rule and 13 years of devastating war. The seven-member committee would submit its proposals to the president, the presidency said in a statement, without specifying a timeframe. (Photo by Syrian Presidency / AFP) / RESTRICTED TO EDITORIAL USE - MANDATORY CREDIT AFP PHOTO / SYRIAN PRESIDENCY - NO MARKETING NO ADVERTISING CAMPAIGNS - DISTRIBUTED AS A SERVICE TO CLIENTS

آئینی اعلامیہ عبوری دور کے انتظام کے لیے ایک قانونی دستاویز ہے: شام

اعلامیہ کو مستقل آئین کا متبادل نہیں سمجھا جاتا: آئینی اعلامیہ مسودہ کمیٹی کی وضاحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں آئینی اعلامیہ کا مسودہ تیار کرنے والی قانونی کمیٹی نے کہا ہے کہ بشار الاسد کی حکومت کے تیار کردہ 2012 کے آئین کے خاتمے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے قانونی خلا کی روشنی میں ایک ایسا آئینی اعلامیے کا مسودہ تیار کرنا ضروری ہو گیا ہے جو عبوری مرحلے کو منظم کرتا ہو اور ریاست کو استحکام اور تعمیر نو کی طرف گامزن کرتا ہو اور اسے مستقل آئین کا متبادل نہ سمجھا جائے۔

کمیٹی نے شامی خبر رساں ایجنسی سانا کو ایک بیان میں قانونی کمیٹی نے مزید کہا کہ آئینی اعلامیہ اپنی قانونی حیثیت نیشنل ڈائیلاگ کانفرنس اور فتح کانفرنس سے حاصل کرتا ہے جہاں شامی عوام کے مختلف اجزاء نے ایک ایسے قانونی فریم ورک جو عبوری مرحلے کو منظم کرتا ہو کی ضرورت پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اعلامیہ حکمرانی کی بنیادوں کی وضاحت کرتا ہے۔ یہ شام میں انسانی حقوق اور آزادیوں کی ایک قانونی دستاویز کی ضمانت دیتا ہے۔ یہ تین اتھارٹیز مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے اختیارات کی وضاحت کرتا ہے۔

قانونی کمیٹی نے اپنے بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ قانونی کمیٹی سب سے اہم اصولوں اور آرٹیکلز کا مطالعہ کرنے کے بعد آئینی اعلامیہ کے ایسے مسودے کو لکھنے کی ذمہ دار ہے جس میں ملک کے مفاد کو حاصل کرنا اور عبوری مرحلے کے تقاضوں کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ قانونی کمیٹی قومی ڈائیلاگ اور کانفرنس کے دوران ہونے والی بات چیت سے خیالات اخذ کرنے کی خواہش مند ہے۔

آئینی اعلامیہ کا مسودہ تیار کرنے والی قانونی کمیٹی نے کہا مسودہ تیار کرنے کے کام کی تکمیل کے ساتھ ہم ایک تجویز جمہوریہ کے ایوان صدر کو پیش کریں گے جس کا مقصد ایک مزید مستحکم اور منصفانہ شام کی طرف منتقلی کو یقینی بنانے کے لیے قانون اور اداروں پر مبنی ایک نیا مرحلہ قائم کرنا ہوگا۔ ملک کا صدر آئینی اعلامیہ کے اجراء کی تاریخ سے 60 دنوں کے اندر عوامی اسمبلی کا تقرر کرے گا بشرطیکہ عوامی اسمبلی میں 100 ارکان شامل ہوں۔ صدر اسے دو سال کے لیے صدارتی حکم نامے کے ذریعے مقرر کرے گا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں