اسرائیل کے ساتھ تناؤ میں اضافہ، ممتاز لبنانی دروز راہنما شام کا دورہ کریں گے

اسرائیلی فوج کو جرمانا میں دروز کی حفاظت کے لیے تیاری کرنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لبنان میں دروز کے ایک ممتاز رہنما نے اتوار کو کہا کہ وہ جلد ہی شام کے عبوری رہنما سے ملاقات کے لیے وہاں کا دورہ کریں گے کیونکہ اقلیتی گروپ کے ارکان، جنگ زدہ ملک کی عبوری حکومت اور اسرائیل کے درمیان تناؤ بڑھ رہا ہے۔

دروز کے تجربہ کار رہنما ولید جمبلاٹ نے اتوار کو ایک نیوز کانفرنس میں اسرائیل اور وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو پر ملک میں فرقہ وارانہ تقسیم اور افراتفری پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا، "آزاد شامیوں کو اسرائیل کی سازشوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ شام میں تخریب کاری کی سازش ہو رہی ہے۔ خطے اور عربوں کی قومی سلامتی کے لیے تخریب کاری کی سازش ہو رہی ہے۔"

دروز کے اکثریتی جنوبی صوبے السویداء میں حالیہ برسوں میں اسد حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے بہت زیادہ لوگوں نے اسرائیل کے فضائی حملوں اور ملک میں فوجی موجودگی کے خلاف بھی احتجاج کیا ہے۔

دروز مذہبی فرقہ ایک اقلیتی گروہ ہے جس کا آغاز 10ویں صدی میں شیعہ اسلام کی شاخ اسماعیلیت کے طور پر ہوا۔ تمام دنیا میں تقریباً ایک ملین ڈروز میں سے نصف سے زیادہ شام میں رہتے ہیں۔ دیگر زیادہ تر دروز لبنان اور اسرائیل بشمول گولان کی پہاڑیوں میں رہتے ہیں۔

جمبلاٹ لبنان کے نمایاں ترین سیاسی رہنماؤں میں سے ایک ہیں اور مبینہ طور پر شرقِ اوسط کی طاقتور ترین دروز شخصیت ہیں۔ وہ اسرائیل کے واضح ناقد اور فلسطینیوں کے حامی ہیں لیکن شام میں اسد خاندان کے خلاف بھی بولتے ہیں۔

انہوں نے آخری بار دسمبر میں بشار الاسد کا تختہ الٹ جانے کے چند دن بعد شام کا دورہ کیا اور عبوری رہنما احمد الشرع سے ملاقات کی تھی۔ شام کی خانہ جنگی کے دوران 2015 میں شدت پسند گروہوں کے شمال مغربی صوبے کے دروز پر ظلم و ستم اور حملوں کی اطلاعات ملیں جس کے بعد جمبلاٹ نے ادلب میں شامی اپوزیشن سے مذاکرات کیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں