netanyahu knesset

اسرائیلی پارلیمان میں ہلاک افراد کے اہل خانہ اور سکیورٹی اہلکاروں کی پر تشدد جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پیر کے روز اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) میں ہلاک ہونےوالے اسرائیلیوں کے اہل خانہ اور سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان پُر تشدد جھڑپیں ہوئی ہیں۔ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب ایک خاندان کے افراد نے جنرل اسمبلی میں بالکونی پر چڑھنے کی کوشش کی۔ جنرل اسمبلی اس وقت سات اکتوبر کے واقعات پر ایک سرکاری تحقیقاتی کمیٹی بنانے کی تجویز پر بحث کر رہی تھی۔

اس موقع پر گانٹز نے نیتن یاہو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی بھی ہائبرڈ پروڈکشن سے اتفاق نہیں کریں گے جو سرکاری تحقیقاتی کمیٹی کی جگہ لے۔ یہ جھگڑا پیر کو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی کنیسٹ کی جنرل اسمبلی سے پہلے کی گئی تقریر سے قبل ہوا۔

حزب اختلاف کے متعدد نمائندوں نے "7 اکتوبر کی ناکامیوں" پر ایک سرکاری تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کیا اور مرنے والوں کے اہل خانہ نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ جو کچھ ہوا اس کی وجوہات اور اس کے ذمہ داروں کو سامنے لایا جائے۔

پارٹی "سٹیٹ کیمپ" کے سربراہ بینی گانٹز نے کہا کہ کمیٹی کی تشکیل سے گریز کرنا افراتفری کا پیش خیمہ ہے۔ جمعرات کو شائع ہونے والی اسرائیلی فوج کی تحقیقات میں سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے دوران وسیع پیمانے پر انٹیلی جنس اور فوجی ناکامیوں کا انکشاف کیا گیا تھا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں