تركيا وإسرائيل (تعبيرية- آيستوك)

تین فوجی اڈوں کی وجہ سے شام اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان جاری کشیدگی کے درمیان گذشتہ بدھ سے شام میں کشیدگی میں کمی پر جاری تکنیکی بات چیت کے باوجود ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے دمشق کی حمایت کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

انہوں نے جنوبی ترکیہ کے شہر انطالیہ میں ایک سفارتی فورم سے خطاب کے دوران کہا کہ ان کا ملک خاص طور پر "شام پر سے بین الاقوامی پابندیاں ہٹانے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا"۔

ترک ایوان صدر کے کمیونیکیشن ڈائریکٹوریٹ کی ویب سائٹ کے مطابق انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان "تجارتی اور اقتصادی تعاون کو بحال کرنے کی ضرورت" پر بھی زور دیا۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

صدرنے اسرائیل پر بھی اپنی تنقید کی اور شام کی تقسیم کو ہوا دینے اور اقلیتوں کو اکسانے کا الزام لگایا۔ طیب ایردوآن نے اسرائیلی حملوں پر بھی تنقید کی۔

فوجی مقامات

تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فوجی اڈے اس کشیدگی کی وجوہات میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ شامی علاقوں پر اسرائیلی حملے اور غزہ کا مسئلہ بھی شامل ہے۔ ایک باخبر شامی ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ انقرہ شام میں "فوجی کیمپ " قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس میں صوبہ حمص میں "T4 ایئر بیس کے اندر" ایک اڈہ بھی شامل ہے۔اے ایف پی کے مطابق گذشتہ ہفتے اسرائیل نے اس بیس پر بمباری کی تھی۔

جبکہ اسرائیل نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ شام کی سرزمین پر ترکیہ کے فوجی اڈوں کی موجودگی کو قبول نہیں کرے گا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے گذشتہ منگل 8 اپریل کو کہا تھا کہ انقرہ شام کی سرزمین پر "فوجی اڈے قائم کرنا چاہتا ہے‘‘۔ انہوں شام میں ترک فوجی اڈوں کے قیام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شام میں ترکیہ کے اڈے اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

اسرائیل کے ایک سرکاری ذریعے نے زور دیا کہ گذشتہ بدھ کو آذربائیجان میں اسرائیل اور ترکیہ کے نمائندوں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں تل ابیب نے انقرہ پر واضح کر دیا کہ شام میں غیر ملکی افواج کی تعیناتی میں کسی بھی قسم کی تبدیلی خاص طور پر پالمیرا کے علاقے میں ترک اڈوں کا قیام ایک سرخ لکیر ہے اور اسے اعتماد کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا"۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں