شامی شہر تدمر میں ترکیہ کے اڈے کا قیام سرخ لکیر ہے: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ترکیہ نے شام پر کشیدگی کم کرنے کے لیے اسرائیل کے ساتھ تکنیکی سطح کے مذاکرات کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کے ایک سرکاری ذریعے نے انکشاف کیا ہےکہ بدھ کو آذربائیجان میں اسرائیل اور ترکیہ کے نمائندوں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں تل ابیب نے ترکیہ پر واضح کر دیا کہ شام میں غیر ملکی افواج کی تعیناتی میں کوئی تبدیلی خاص طور پر تدمر کے علاقے میں ترکیہ کے اڈوں کا قیام اسرائیل کے سرخ لکیر ہے۔

ذرائع نے جمعرات کو بیانات میں مزید کہا کہ "اسرائیل نے ماضی میں واضح کیا ہے کہ اس خطرے کو روکنا دمشق کی حکومت کی ذمہ داری ہے"۔

انہوں نے شام کے نئے صدر کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہاکہ "کوئی بھی اقدام جو اسرائیل کو خطرے میں ڈالے گا احمد الشرع کی حکمرانی کو خطرے میں ڈالے گا"۔

اس سے قبل آج جمعرات کو ترکیہ کی وزارت دفاع کے ذرائع نے شام میں ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان "ڈی اسکیلیشن" میکانزم کے وجود پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ "ناپسندیدہ واقعات سے بچنے کے لیے ڈی اسکیلیشن میکانزم کے قیام کے حوالے سے کل آذربائیجان میں پہلی تکنیکی میٹنگ ہوئی"۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعلق کم کرنے کے طریقہ کار کے قیام کی کوششیں جاری رہیں گی"۔

"تصادم سے بچنے کا طریقہ کار"

یہ بات ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان کی جانب سے گذشتہ روز اس بات کی تصدیق کے بعد سامنے آئی ہے کہ ان کا ملک شام پر کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اسرائیل کے ساتھ تکنیکی سطح کے مذاکرات کر رہا ہے لیکن تعلقات کو معمول پر لانے کی طرف نہیں بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے CNN ترک کو بتایا کہ "جب ہم شام میں کچھ کارروائیاں کرتے ہیں، وہاں اسرائیل کے ساتھ تنازعات سے بچنے کے لیے ایک طریقہ کار ہونا چاہیے، جس کے طیارے اس خطے میں پرواز کرتے ہیں، جیسا کہ ہم امریکیوں اور روسیوں کے ساتھ کرتے ہیں"۔

انہوں نے مزید کہاکہ "یہ فطری ہے کہ اس کے قیام کے لیے تکنیکی سطح پر رابطے ہوں گے"۔

تاہم انہوں نے تل ابیب کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کو مسترد کر دیا، خاص طور پر غزہ پر اسرائیل کی جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

شام میں ترک اثر و رسوخ نے تل ابیب میں خدشات کو جنم دیا ہے، جس نے شامی حکومتی فوج کو اپنی سرحد سے دور دھکیلنے کے لیے فضائی حملے اور زمینی دراندازی شروع کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں