شام پر سے پابندیاں ہٹائی جائیں اور دمشق کی مدد کی جائے : خصوصی ایلچی اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی جیئر پیڈرسن نے ایک بار پھر دمشق پر عائد مغربی پابندیوں کے خاتمے کی اہمیت باور کرائی ہے۔

ان کا یہ موقف آج ہفتے کے روز ترکیہ کے جنوب میں انتالیہ فورم میں شرکت کے موقع پر سامنے آیا۔ پیڈرسن کا کہنا تھا کہ "ہم شامی حکومت کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں، تاہم عالمی برادری کو اس کی مدد کرنا ہو گی تا کہ وہ کامیاب ہو سکے"۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

خصوصی ایلچی نے دمشق پر عائد پابندیاں اٹھائے جانے کی ضرورت پر زور دیا تا کہ وہ کئی برسوں کی جنگ کے بعد پھر سے ابھر سکے۔
پیڈرسن نے واضح کیا کہ اسرائیل جب شام کی فضائی حدود استعمال کر کے اس کی اراضی پر حملے کرتا ہے تو وہ آگ سے کھیل رہا ہوتا ہے۔

خصوصی ایلچی اس سے قبل بالخصوص سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے سقوط کے بعد شام پر مسلسل اسرائیلی حملوں کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔

انھوں نے متعدد بار بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ مغربی پابندیاں ختم کرے جو کہ 14 سالہ جنگ کے نتیجے میں تباہ حال معیشت پر بھاری بوجھ بنی ہوئی ہیں۔

پناہ گزینوں کے امور کے لیے اقوام متحدہ کے کمیشن نے واضح کیا ہے کہ شام کے اندر تقریبا 1.67 کروڑ افراد یعنی 90% کے قریب آبادی کسی نہ کسی شکل میں انسانی امداد کے محتاج ہیں۔ اس کے علاوہ ابھی تک اندرون ملک نقل مکانی کرنے والے 74 لاکھ سے زیادہ شامیوں کو بھی سہارے کی ضرورت ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں