حماس کا وفد غزہ میں جنگ بندی پر بات چیت کے لیے قاہرہ روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی بمباری کے درمیان حماس کا ایک وفد جنگ بندی پر بات چیت کے لیے قاہرہ روانہ ہوا ہے۔

حماس کے ایک باخبر ذریعے نے ہفتے کے روز بتایا کہ حماس کے سینئر رہنماؤں کا ایک وفد مصری حکام سے جنگ بندی کے حوالے سے بات چیت کے لیے قاہرہ پہنچنے والا ہے۔

خبر رساں ایجنسی ’اےایف پی‘ کے مطابق انہوں نے امید ظاہر کی کہ "یہ ملاقات جنگ کو روکنے، جارحیت کا سلسلہ بند کرانے اور غزہ سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلاء کو یقینی بنانے کے معاہدے تک پہنچنے کی جانب حقیقی پیش رفت حاصل کرے گی"۔

ڈرافٹ کا تبادلہ

اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق اسرائیلی حکام نے جمعہ کو اطلاع دی کہ تل ابیب اور قاہرہ نے غزہ پر مصری تجویز کے مسودوں کا تبادلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "غزہ پر مذاکرات میں پیش رفت کے حصول کا امکان ہے"۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ روز فلسطینی پٹی میں قید اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے بات چیت میں پیش رفت کا اشارہ دیتے ہوئے کہاتھا کہ ان کا ملک اسرائیل اور ثالثوں کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے لیے ان کے ایلچی اسٹیو وٹ کوف نے بھی انکشاف کیا کہ حماس کے ساتھ معاہدہ چند دنوں میں طے پا سکتا ہے۔

ثالثوں مصر، قطر اور امریکہ کے ذریعے جاری مشاورت کے باوجود اسرائیلی فوج نے شمال اور جنوب میں بفر زون قائم کرنے کے منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے غزہ کے علاقوں کو خالی کرنے اور پٹی پر مسلسل بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

حماس اور اسرائیل کے درمیان طویل مذاکرات اور بار بار کی ناکامی کے بعد رواں سال جنوری میں دو ماہ کی عارضی جنگ بندی طے پائی تھی۔ اسرائیلی فوج نے اٹھارہ مارچ 2025ء سے غزہ پر دوبارہ جنگ مسلط کرتے ہوئے حماس کے خلاف کارروائیاں شروع کردی ہیں۔

آخری جنگ بندی میں 33 اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کی اجازت دی گئی، جب کہ آٹھ لاشیں بھی واپس کی گئیں۔ تبادلے کے معاہدے کے تحت تقریباً 1,800 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا تھا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ 58 اسرائیلی اب بھی غزہ میں ہیں۔اسرائیلی فوجی اندازوں کے مطابق ان میں سے 34 مارے جا چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں