غزہ میں اسرائیل کی طرف سے توڑ دی گئی جنگ بندی کے بعد قاہرہ میں مذاکراتی عمل بحال کیا گیا ۔ تاکہ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی بھی زیر بحث آئے۔ مگر مصری اور فلسطین سے متعلق ذرائع کا پیر کے روز کہنا ہے کہ مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔
ذرائع کے مطابق حماس اپنے موقف پر قائم ہے کہ کسی بھی معاہدے کا حاصل جنگ کا مکمل خاتمہ ہوگا۔ جبکہ اسرائیل کا اصرار ہے کہ جب تک حماس کا عسکری ونگ غیر مسلح نہیں کیا جاتا جنگ کا خاتمہ نہیں کیا جائے گا۔ تاہم فلسطینی مزاحمت کار ہتھیار چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں۔
اس بنیادی عدم اتفاق کے باوجود حماس سے سربراہ خلیل الحیہ نے قدرے لچک دکھاتے ہوئے بتایا ہے کہ اگر جنگ بندی ہوتی ہے تو فلسطینی قیدیوں کے بدلے میں کتنے اسرائیلی قیدی رہا کیے جائیں گے۔
مصری ذرائع نے خبر رساں ادارے ' روئٹرز' کو بتایا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع کے بدلے میں حماس سے کہا گیا ہے کہ وہ قیدیوں کی رہائی کی تعداد میں اضافہ کرے۔ نیتن یاہو کی سیکیورٹی کابینہ کے رکن نے فوجی ریڈیو کو پیر کے روز بتایا' اسرائیل دس قیدیوں کی رہائی چاہتا ہے۔ جبکہ حماس صرف پانچ کو چھوڑنا چاہتا ہے۔'
تاہم حماس کی طرف سے کہا گیا قیدیوں کو رہا کیے جانے کی تعداد اہم مسئلہ نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ قبضہ اپنے وعدے پورے کرتا ہے یا نہیں اور معاہدے پر عمل کرتا ہے یا نہیں۔ نیز قبضہ کیا جنگ بندی معاہدے کی شقوں پر عمل کو روک کر پہلے کی طرح جنگ جاری رکھتا ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ اسرائیل معاہدے کی روح کے مطابق پوری طرح عمل کرے اور اس کی ضمانت دی جائے کہ وہ عمل کرے گا۔'
مصری ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حماس نے اس تجویز کا جواب دینے کے لیے زیادہ وقت مانگا ہے۔
فضائی حملے !
حماس کے عسکری ونگ نے حالیہ جنگ بندی کے دوران 33 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا تھا۔ لیکن اسرائیل نے جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے لیے بات چیت کو آگے بڑھانے کے بجائے 18 مارچ سے دوبارہ جنگ چھیڑ دی۔ حالانکہ دوسرے مرحلے کی جنگ بندی کے لیے مذاکرات کا مطلب تھا کہ جنگ نہیں چھیڑی جائے گی۔
اس نئے سرے سے چھڑی گئی جنگ میں اسرائیلی فوج نے اقوام متحدہ کے 15 کارکنوں سمیت 15000 فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے۔ ان میں زیادہ تعداد بچوں اور عورتوں کی ہے۔ جبکہ اب تک جنگ کے دوران مجموعی طور پر اسرائیلی فوج نے تقریبا 51 ہزار فلسطینیوں کو قتل کیا ہے۔
جبکہ ماہ مارچ کے شروع سے ناکہ بندی کو سخت کر کے خوراک، ایندھن اور ادویات سمیت ہر چیز کی ترسیل روک دی ہے۔ جبکہ غزہ میں اب بھی 59 اسرائیلی قیدی موجود ہیں ، اسرائیلی فوج کا اندازہ ہے کہ اب تک ان میں سے 34 اسرائیلی قیدی ہلاک ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے غزہ میں تقریباً تمام عمارتوں اور گھروں کو بمباری سے تباہ کر دیا ہے۔ اس کی بمباری سے جو گھر بچ گئے تھے انہیں اب نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ملبے کے نیچے دس ہزار سے زائد فلسطینیوں کی لاشیں دبی پڑی ہونے کا خدشہ ہے۔
جبالیہ میں ملبہ اٹھانے والے ریسکیو کارکنوں کو پیر کے روز کمبل میں لپٹی ایک لاش نکالنے کے علاوہ ملبے کے نیچے دبے ایک شخص کے ہاتھ اور پاؤں بھی نظر آئے ہیں۔ ریسکیو کارکنوں کا کہنا ہے بمباری کے تازہ واقعے میں 25 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔
ادھر دوحا میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کی ملاقات ہوئی ہے ۔ مصری ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر السیسی چاہتے ہیں کہ جنگ بندی کے لیے مزید بین الاقوامی ضمانتیں حاصل کی جائیں۔