غزہ کے ہسپتال پر اسرائیلی فضائی حملے میں ایک بچہ ہلاک: ڈبلیو ایچ او

مریض سڑکوں پر بے حال، دوسرے ہسپتالوں میں منتقلی پر مجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

اتوار کو ایک اسرائیلی فضائی حملے نے غزہ کے ایک ہسپتال کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق ایک بچہ ہلاک ہو گیا۔ اسرائیل نے خبردار کیا تھا کہ اگر حماس نے قیدیوں کو رہا نہ کیا تو وہ اپنے حملے بڑھا دے گا۔

جنگ شروع ہونے کے بعد سے غزہ کے دسیوں ہزار باشندوں نے ہسپتالوں میں پناہ لے رکھی ہے جن میں سے اکثر کو جاری حملوں میں شدید نقصان پہنچا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گیبریئسس نے ایکس پر کہا کہ حملے کے بعد شمالی غزہ کے الاھلی ہسپتال میں "طبی نگہداشت میں خلل کے باعث ایک بچہ مر گیا"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ایمرجنسی روم، لیبارٹری، ایمرجنسی روم کی ایکسرے مشینیں اور فارمیسی تباہ ہو گئی۔ ہسپتال 50 مریضوں کو دوسرے ہسپتالوں میں منتقل کرنے پر مجبور ہو گیا جبکہ 40 نازک مریضوں کو منتقل نہیں کیا جا سکا۔"

اسرائیلی فوج نے الزام لگایا کہ اس نے ہسپتال میں حماس کے "کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر" کو نشانہ بنایا جس کی فلسطینی گروپ نے تردید کی ہے۔

غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے کہا کہ یہ حملہ "(اسرائیلی) فوج کی طرف سے انخلاء کے انتباہ کے چند منٹ بعد کیا گیا"۔

اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ہسپتال کی عمارت میں ’کوئی طبی کام نہیں ہو رہا تھا‘ جسے ایک ’درست حملے‘ کا نشانہ بنایا گیا۔

اس نے ایکس پر مزید کہا، "حملے کے نتیجے میں کوئی شہری جانی نقصان نہیں ہوا۔"

اے ایف پی کی تصاویر میں حملے کے بعد کنکریٹ کی بڑی بڑی سِلیں اور مڑی تڑی دھاتی اشیاء اس جگہ پر بکھری ہوئی نظر آ رہی تھیں۔

دھماکے سے ہسپتال کی ایک عمارت میں شگاف پڑ گیا اور لوہے کے دروازوں اکھڑ گئے۔

شہری دفاع کے ادارے نے بتایا کہ اتوار کو دیر البلح شہر میں ایک گاڑی پر ایک اور فضائی حملے میں چھ بھائیوں سمیت سات افراد ہلاک ہو گئے۔

مریض سڑکوں پر

اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے اتوار کو اس بات کا اعادہ کیا کہ اگر حماس باقی قیدیوں کو رہا کرنے سے "انکار پر قائم رہی" تو فوج اپنی کارروائی بڑھا دے گی۔

انہوں نے کہا، "غزہ چھوٹا اور زیادہ الگ تھلگ ہوتا جائے گا اور اس کے زیادہ سے زیادہ باشندے جنگی علاقوں سے نقلِ مکانی پر مجبور ہو جائیں گے جبکہ لاکھوں پہلے ہی وہاں سے جا چکے ہیں۔"

الاھلی ہسپتال پر حملے کے بعد مریض، ان کے لواحقین اور طبی عملہ سڑکوں پر پھنس گیا۔

بیالیس سالہ نائلہ عماد ہسپتال میں پناہ لیے ہوئے تھیں لیکن انہیں احاطے سے باہر نکلنا پڑا۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، "جیسے ہی ہم ہسپتال کے گیٹ پر پہنچے تو انہوں نے بمباری کر دی۔ یہ ایک زبردست دھماکہ تھا۔ اب میں اور میرے بچے سڑک پر ہیں۔ ہسپتال ہماری آخری پناہ گاہ تھا۔"

حماس نے اسرائیل کے اس "وحشیانہ جرم" کی مذمت کی ہے۔

گذشتہ ماہ متحارب فریقین کے درمیان ایک نازک جنگ بندی میں ثالثی میں مدد دینے والے قطر نے سعودی عرب کی طرح اسے "وحشیانہ جرم" قرار دیا تھا۔

اتوار کو ہی اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کو فلسطینی ریاست کی وکالت کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا، "صدر میکرون ہماری سرزمین کے قلب میں ایک فلسطینی ریاست کے خیال کو فروغ دینے میں سخت غلطی کر رہے ہیں -- ایک ایسی ریاست جس کی واحد خواہش اسرائیل کی تباہی ہے۔"

میکرون نے اس ہفتے فرانس فائیو کو ایک انٹرویو میں کہا تھا، فرانس جون میں نیویارک میں ہونے والی اقوامِ متحدہ کانفرنس میں یہ قدم اٹھا سکتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سے عرب ممالک بھی باہمی طور پر اسرائیل کو تسلیم کر لیں گے۔

ہسپتالوں کو نشانہ بنایا گیا

بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت محفوظ ہسپتال غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حملوں کی زد میں ہیں۔

الاھلی کو 17 اکتوبر 2023 کو کار پارکنگ میں دھماکے سے بہت زیادہ نقصان پہنچا تھا جس میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں۔

برطانوی وزیرِ خارجہ ڈیوڈ لیمی نے اتوار کے روز اسرائیل پر زور دیا کہ وہ ہسپتالوں پر "افسوسناک حملے" روک دے۔

گذشتہ ماہ اسرائیلی افواج کی غزہ میں ایمبولینسوں پر فائرنگ سے 15 طبی عملے اور امدادی کارکن ہلاک ہو گئے تھے جس کی بین الاقوامی سطح پر مذمت ہوئی تھی۔

فلسطین ہلالِ احمر سوسائٹی نے اتوار کو کہا کہ حملے کے بعد سے لاپتہ طبی عملے کا ایک رکن اسد النصرہ "اسرائیلی حکام کے زیرِ حراست تھا"۔

اسرائیلی فوج نے اتوار کو کہا کہ اس نے غزہ سے داغا گیا ایک میزائل روک لیا۔ بعد ازاں اتوار کو ہی اس نے یمن سے داغا گیا ایک اور میزائل بھی روک لیا۔

یمن کے حوثی باغیوں نے کہا کہ انہوں نے اسرائیل پر دو بیلسٹک میزائل داغے جن میں سے ایک نے بن گوریون ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں