اسرائیلی قیدیوں کے رشتہ دار اور حامی 17 اپریل کو یروشلم میں اسرائیلی وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کے باہر حکومت مخالف مظاہرے کے لیے جمع ہو کر ان کی رہائی کے لیے کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس موقع پر اسرائیلی سکیورٹی فورسز حفاظت کے لیے کھڑی ہیں۔ (اے ایف پی)
غزہ میں 24 قیدی زندہ ہیں: ٹرمپ کے پریشان کن تبصرے کے بعد اسرائیل کا بیان
نئی معلومات فوری طور پر فراہم کی جائیں: قیدیوں کے حامی گروپ کا مطالبہ
ایک اسرائیلی اہلکار نے بدھ کے روز کہا کہ غزہ میں زندہ قیدیوں کی تعداد 24 ہیں۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 21 کی تعداد بتائی تھی جس پر قیدیوں کے اہلِ خانہ پریشان ہیں۔
قیدیوں کے معاملات کے لیے اسرائیلی رابطہ کار گال ہرش نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، حماس کے پاس 59 افراد قید ہیں جن میں سے 24 زندہ اور 35 مردہ ہیں - یہ اعداد و شمار ٹرمپ کے بتانے سے پہلے کے ہیں جن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
انہوں نے کہا، "قیدیوں کے تمام خاندانوں کو ان کے عزیزوں کے بارے میں موجود تازہ معلومات سے ہمیشہ آگاہ کیا جاتا ہے۔"
منگل کو وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، ایک ہفتہ قبل 24 قیدی زندہ تھے لیکن اب یہ تعداد 21 ہے۔
انہوں نے کسی ذریعہ کا حوالہ دیئے یا مزید تفصیلات فراہم کیے بغیر کہا، "میں 21 کہتا ہوں کیونکہ آج کے دن تک یہ 21 ہے۔ تین مر چکے ہیں۔"
ٹرمپ کے تبصرے پر قیدیوں کے اہلِ خانہ کی نمائندگی کرنے والے گروپ نے اسرائیلی حکومت سے تقاضہ کیا کہ وہ فوری طور پر انہیں کوئی بھی نئی معلومات فراہم کرے۔
گروپ کے ترجمان نے کہا، "ہیڈ کوارٹر وزیرِ اعظم سے آخری قیدی کی واپسی تک جنگ بند کرنے کا دوبارہ مطالبہ کرتا ہے۔ یہ فوری اور اہم ترین قومی فریضہ ہے۔"
قیدیوں کی قسمت زیادہ تر اسرائیلیوں کے لیے ایک جبلی اور ایسا مسئلہ ہے جو جنگ کی طوالت کے ساتھ اسرائیلی معاشرے میں بڑھتی ہوئی تقسیم اور اضطراب کا سبب بن گیا ہے۔
قیدی خاندانوں اور ان کے حامیوں نے شروع سے کہا ہے کہ تمام قیدیوں کی رہائی حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
اب تک زندہ واپس جانے والے زیادہ تر اسرائیلی قیدی 2023 کے اواخر اور 2025 کے اوائل میں دو مرتبہ ہونے والے عارضی جنگ بندی معاہدوں کے تحت رہا کیے گئے۔
حالیہ جنگ بندی مارچ میں ختم ہو گئی اور خاندانوں کے گروپ کا استدلال ہے کہ اسرائیل کو لڑائی بند کر کے بقیہ قیدیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات کرنے چاہئیں۔
حکومت نے کہا ہے کہ جنگ سے اس کے دو مقاصد ہیں: حماس کی تباہی اور قیدیوں کی رہائی۔ اس ہفتے اس نے غزہ پر اپنے حملے میں توسیع کا اعلان کیا ہے جس پر قیدیوں کے خاندانوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اس سے ان کے عزیزوں کی زندگی کو مزید خطرہ لاحق ہو جائے گا۔