غزہ سے متعلق نیا مجوزہ منصوبہ آئندہ چند گھنٹوں میں متوقع: العربیہ ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

العربیہ نیوز کے ذرائع نے آج بدھ کے روز بتایا ہے کہ امریکہ کے دباؤ پر غزہ کے حوالے سے آئندہ چند گھنٹوں میں ایک نیا مجوزہ منصوبہ سامنے آ سکتا ہے۔ اس منصوبے میں محفوظ راہ داریوں کے قیام اور امداد کی تقسیم کے لیے خصوصی مراکز کا قیام شامل ہے۔

ان ذرائع کے مطابق، ثالثی ممالک اس نئی تجویز کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطے کے دورے سے قبل حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اس تجویز کے تحت غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل اور تقسیم کی ذمے داری امریکا کے سپرد کی جائے گی۔ ثالثی ممالک امریکہ کو واضح کر چکے ہیں کہ وہ اسرائیل کو یہ ذمے داری سونپنے کے حق میں نہیں ہیں۔

ادھر، مصر اور قطر نے بدھ کے روز ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے غزہ کے انسانی بحران کے خاتمے کے لیے اپنی ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، دونوں ممالک نے کہا ہے کہ ان کی کوششیں ہم آہنگ اور مشترکہ نقطہ نظر پر مبنی ہیں، جس کا مقصد اس "غیر معمولی انسانی بحران" کا خاتمہ ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ کوششیں امریکہ کے ساتھ قریبی تعاون میں کی جا رہی ہیں تاکہ ایک ایسا معاہدہ طے پا سکے جو اس انسانی المیے کو ختم کرے اور عام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔

دوسری جانب، 2007 سے غزہ کی پٹی پر حکومت کرنے والی فلسطینی تنظیم حماس نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل خوراک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو اس وقت شروع ہوئی جب حماس نے جنوبی اسرائیل پر حملے کیے، جن میں اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق 1200 افراد ہلاک اور 251 کو یرغمال بنایا گیا۔ اس کے جواب میں اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں جاری فوجی کارروائی میں اب تک 52 ہزار سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ مرنے والوں میں زیادہ تر عام شہری ہیں، جب کہ غزہ کی پٹی کا بڑا حصہ کھنڈر بن چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں